سردار یاسر الیاس کو آئندہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے تیار کرنے کی خبریں، فاروق حیدر نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم و سینیئر رہنما مسلم لیگ ن راجا فاروق حیدر نے معروف بزنس مین سردار یاسر الیاس کو آزاد کے نئے وزیراعظم کے لیے تیار کرنے کی خبروں پر خاموشی توڑ دی۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ معروف بزنس مین سردار یاسر الیاس کو آزاد کشمیر کو آئندہ وزیراعظم بنانے سے متعلق کی جانے والی باتیں درست نہیں۔ ’یہ ایسے ہی ہے کہ شام کے وقت آپ مجھے پوچھیں کہ کیا ٹائم ہوا ہے تو میں کہوں کہ صبح کے 8 بجے ہیں، وہ تو ابھی تک مسلم لیگ ن میں باضابط شامل ہی نہیں ہوئے۔‘
یہ بھی پڑھیں:وی ایکسکلوسیو: آزاد کشمیر میں اگلی حکومت ن لیگ کی ہوگی، وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، راجا فاروق حیدر
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن آئندہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے لیکن نئے وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔
راجا فاروق حیدر نے کہاکہ لاہور میں ہونے والی پارٹی میٹنگ میں نواز شریف نے تنظیم پر واضح کیاکہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر کوئی وزیراعظم بنتا پھرے،پہلے الیکشن جیتیں وزیراعظم کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔
واضح رہے کہ سردار یاسر الیاس اس وقت وزیراعظم پاکستان کے کوآرڈی نیٹر برائے سیاحت ہیں۔حالیہ دنوں میڈیا پر یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ان کو آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ یاسر الیاس کے بھائی سردار تنویر الیاس بھی 2022 میں آذاد کشمیر کے وزیراعظم رہ چکے ہیں تاہم ایک عدالتی فیصلے میں وہ نااہل ہوگئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر سردار یاسر الیاس مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راجا فاروق حیدر سردار یاسر الیاس مسلم لیگ ن سردار یاسر الیاس راجا فاروق حیدر مسلم لیگ ن کشمیر کے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔