کشمیریوں کو ملک بھر میں کاروبار اور روزگار سے روکنا تشویشناک ہے، غلام علی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ممبر پارلیمنٹ کو ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت سے قبل کشمیر میں نوجوانوں کی جانیں جارہی تھیں، پتھراؤ اور جنازے روز کا معمول بن چکے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ کے رکنِ غلام علی کھٹانہ نے ایک انٹرویو میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مزدوروں، تاجروں، کاروباری افراد اور ریڑی فروشوں پر ریاست سے باہر ہونے والے حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اب چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی فوراً منظرِعام پر آ جاتا ہے، جبکہ ماضی میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے تھے۔ غلام علی کھٹانہ نے کہا کہ اتراکھنڈ میں پیش آئے حالیہ واقعے کے بعد پولیس نے کشمیریوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ایک بڑا اور جمہوری ملک ہے اور کشمیریوں کو پورے ملک میں کاروبار، ملازمت اور تجارت کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔
غلام نبی کھٹانہ کا تعلق جموں شہر سے ہے اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ گوجر طبقے سے تعلق رکھنے والے کھٹانہ کو پارٹی نے گزشتہ سال پارلیمنٹ کیلئے نامزد کیا۔ اس سے قبل وہ سیاسی طور کبھی منظرعام پر نہیں آئے تھے۔ غلام علی کھٹانہ کو ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت سے قبل جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی جانیں جا رہی تھیں، پتھراؤ اور جنازے روز کا معمول بن چکے تھے۔ تاہم 2014 کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے ان حالات پر قابو پایا اور خطے میں ترقی کا عمل شروع ہوا۔ کشمیر کا نوجوان ذہین ہے وہ ملک کی تعمیر ترقی میں اپنا رول اچھے سے ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات نہیں ہوں گے لیکن انتخابات وقت پر منعقد ہوئے۔ اسی طرح وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے کئے گئے وعدے کے مطابق ریاستی درجہ بھی بحال کیا جائے گا۔ ریزرویشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور بغیر مکمل معلومات کے انہیں بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 75 فیصد ریزرویشن جنرل لائن سے تعلق رکھنے والی کیٹیگریز جیسے ایس سی، ای ڈبلیو ایس، اے ایل سی اور او بی سی کے لئے ہے، پھر یہ کہنا کہ جنرل کیٹیگری کے لیے کوئی ریزرویشن نہیں، درست نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ غلام علی رہے ہیں
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔