data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ دسمبر 2025 کے ماہانہ اقتصادی جائزہ وآؤٹ لک کومعاشی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں ظاہرہونے والا پرائمری سرپلس مالی نظم وضبط کا ثبوت ہے، جسے نئے سال 2026 میں بھی برقراررکھنا ناگزیرہوگا۔میاں زاہد حسین کے مطابق اگرچہ مجموعی معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، تاہم 2026 پاکستان کے لیے مواقع اورچیلنجز دونوں لے کرآیا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اورپیشگی قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستان بیوروآف اسٹیٹکس اور اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار پرتبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 کی آخری سہ ماہی میں مہنگائی میں مسلسل کمی، صنعتی شعبے کوسہارا دینے کے لیے کم ازکم 2 فیصد شرحِ سود میں کمی کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کو خوش آئند قرار دیا، تاہم خبردارکیا کہ زرمبادلہ کے ذخائرمیں بہتری قرضوں اورترسیلاتِ زرپرانحصارکے بجائے برآمدات میں اضافے کے ذریعے حاصل کی جانی چاہیے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کو 2026 میں آئی ٹی اورویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل جیسے تیزرفتارترقی کے حامل شعبوں پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی جلد فروخت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قومی خزانے پربوجھ کم ہوگا اوربچنے والے وسائل انفراسٹرکچراورسماجی تحفظ کے منصوبوں پرخرچ کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے 2026 کے بڑے چیلنجزپربات کرتے ہوئے توانائی کے شعبے میں سرکلرڈیٹ کوصنعتی مسابقت میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سستی اورقابلِ اعتماد توانائی کسی بھی معاشی بحالی کی بنیاد ہے، اس لیے بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں میں اصلاحات اورلائن لاسزمیں کمی ناگزیرہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل دوست ممالک سے براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردارادا کررہی ہے، اوراگرایزآف ڈوئنگ بزنس کوبہتربنایا جائے اورپالیسیوں میں تسلسل رکھا جائے توپاکستان آئندہ دنوں میں بہتر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی شرح حاصل کرسکتا ہے۔میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ بزنس کمیونٹی حکومت کے معاشی ایجنڈے کی حمایت جاری رکھے گی، بشرطیکہ ٹیکس نیٹ کومنصفانہ طورپروسعت دی جائے اورموجودہ ٹیکس دہندگان پرمزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اوربین الاقوامی اداروں کے اعدادوشمارمعاشی بحالی کی نشاندہی کررہے ہیں، مگریہ بحالی اسی وقت پائیدارترقی میں بدلے گی جب اسٹرکچرل اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے اعتماد ظاہرکیا کہ اگر 2026 میں بھی مالی استحکام کی کوششیں اسی عزم کے ساتھ جاری رہیں توپاکستان معاشی استحکام کے حصول کے بعد مستحکم اور تیز رفتارترقی کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زاہد حسین نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات

وزیر اعلیٰ نے انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات میں جی بی میں حکومت سازی، خطے کے مسائل اور پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ