سندھ حکومت کا خطرناک عمارتیں خالی کرانے اور گرانے کیلئے ترجیحی اقدامات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ایک بیان میں سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں کو فوری خالی کرایا جائے گا، جو غیرمحفوظ عمارتیں پہلے ہی خالی کی جا چکی ہیں انہیں گرایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ حکومت نے خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے اور گرانے کےلیے ترجیحی اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔ سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں کو فوری خالی کرایا جائے گا، جو غیرمحفوظ عمارتیں پہلے ہی خالی کی جا چکی ہیں انہیں گرایا جائے گا۔ شرجیل میمن نے ہدایت کی کہ متاثرہ رہائشیوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، کراچی میں 588 انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 471 کا سروے اسسٹنٹ کمشنرز نے مکمل کرلیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جائے گا
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔