سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و سینیئر رہنما پاکستان مسلم لیگ ن راجا محمد فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ اگلی حکومت ن لیگ کی ہوگی اور وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: راجا فاروق حیدر نے ’پاک فوج اور فیلڈ مارشل عاصم منیر زندہ باد‘ کے نعرے لگوا دیے

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے راجا فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ محبت لازوال ہے اور ہم پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کی بہترین وکالت کر سکتا ہے۔

راجا فاروق حیدر نے انٹرویو کے دوران آزاد کشمیر کی سیاست، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور تحریک آزادی کشمیر پر کھل کر اظہار کیا۔

انہوں نے آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کی صورت میں معروف بزنس میں سردار یاسر الیاس کو وزیراعظم بنانے سے متعلق افواہوں کو سختی سے مسترد کیا۔

راجا فاروق حیدر نے کہا کہ جب نواز شریف پر برا وقت آیا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مجھے ن لیگ چھوڑنے کا کہا لیکن میں نے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان چاہتے تھے کہ میں مسلم لیگ ن چھوڑ دوں لیکن میں نے کہاکہ ایسا نہیں کرسکتا، پھر سنہ 2021 کے الیکشن میں جب پی ٹی آئی کو جتوا دیا گیا اور ساتھ ہی 5 اگست یوم استحصال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم مظفرآباد آنا تھا تو میں نے ان کو پیغام بھجوایا کہ اگر یہاں آئے تو تم رہو گے یا میں رہوں گا‘۔

’ن لیگ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی‘

راجا فاروق حیدر نے کہا کہ مسلم لیگ ن آئندہ عام انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی تاہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں ہونے والی میٹنگ میں پارٹی صدر نواز شریف نے پارٹی کی تنظیم کے سامنے یہ واضح کیا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر کوئی خود کو وزیراعظم کا امیدوار ظاہر کرتا پھرے، اس کا فیصلہ میں خود کروں گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سنہ 2021 کے الیکشن سے قبل جب انتخابی مہم چل رہی تھی تو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چیف الیکشن کمشنر نے اس وقت کے وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور کے ریاست میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی لیکن عمران خان اس کے باوجود ان کو لے کر آزاد کشمیر میں گھومتے رہے جو درست عمل نہیں تھا۔

’یاسر الیاس ابھی تک ن لیگ میں شامل ہی نہیں ہوئے‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معروف بزنس مین سردار یاسر الیاس کو آزاد کشمیر کو آئندہ وزیراعظم بنانے سے متعلق کی جانے والی باتیں درست نہیں۔ ’یہ ایسے ہی ہے کہ شام کے وقت آپ مجھے پوچھیں کہ کیا ٹائم ہوا ہے تو میں کہوں کہ (سہ پہر کی بجائے) صبح کے 8 بجے ہیں، وہ تو ابھی تک مسلم لیگ ن میں باضابط شامل ہی نہیں ہوئے۔‘

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں راجا فاروق حیدر نے کہاکہ بیرون ممالک میں بیٹھے کچھ عناصر آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دکانداروں کا کوئی کام نہیں کہ وہ آزاد کشمیر کے آئینی معاملات میں دخل اندازی کریں اور یہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے تاجر ایکشن کمیٹی ہی تھی۔

’آٹے اور بجلی کی قیمتیں کم ہونے پر ایکشن کمیٹی کو پذیرائی ملی‘

سابق وزیراعظم نے کہاکہ احتجاج کی صورت میں بجلی اور آٹے کی قیمت کم ہونے کے بعد اس جتھے کو عوام میں پذیرائی ملی، انوارالحق لائق آدمی ہیں لیکن وہ ہینڈل نہیں کر سکے، اور انہوں نے ہی ریاست کا بیڑا غرق کیا۔

انہوں نے کہاکہ میں نے انوارالحق کو مشورہ دیا تھا کہ معاملات کو کیسے سلجھایا جائے لیکن وہ انجانے خوف کا شکار تھے اور فیصلے کرنے سے ہچکچاتے تھے۔

راجا فاروق حیدر نے کہاکہ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی ہمارے کہنے پر نہیں ہوئی، یہ حساس خطہ ہے، ہم تو 2024 میں ہی سیاسی تبدیلی چاہتے تھے۔

انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے کے بعد اپوزیشن میں بیٹھنے سے متعلق سوال پر راجا فاروق حیدر نے کہاکہ اتحادی حکومت کا تجربہ کامیاب نہیں رہا، اور چونکہ ہم نے پیپلز پارٹی کے خلاف اگلا الیکشن لڑنا ہے، اس لیے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

مہاجرین مقیم پاکستان کی آزاد کشمیر اسمبلی میں موجود نشستیں ختم کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ 12 لوگ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ان سیٹوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

’فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کو سبق سکھا کر دکھایا‘

معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے راجا فاروق حیدر نے کہاکہ ماضی کا ایک وزیراعظم پوچھ رہا تھا کہ کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں، لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ کرکے دکھا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: راجا فاروق حیدر نے کہاکہ راجا فاروق حیدر نے کہا انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی مسلم لیگ ن نے کہاکہ ا

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم