عمران خان مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ ہیں، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود عمران خان ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم نے پیشکش سے پہلے نوازشریف یا اسٹیبشلمنٹ کواعتماد میں نہ لیا ہو۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت کہتی ہے کہ وہ ڈائیلاگ چاہتے ہیں، جب تک بانی پی ٹی آئی کی ڈائیلاگ کی پالیسی نہیں ہوگی اْس وقت تک جتنی میٹنگ ہوتی رہیں بات نہیں بن سکتی، بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیارکسی کونہیں دیا، علیمہ خان نے جوبات کی ہے کہ جومذاکرات کرے گا وہ ان میں سے نہیں ہے۔رانا ثنااللہ کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی نے پہیہ جام ہڑتال کا پیغام دیا ہے، مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی ہی رکاوٹ ہیں، وہی 2011ء سے آج تک مذاکرات میں رکاوٹ ہیں، بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتے، ہم مذاکرات کے لیے بالکل واضح ہیں دوسری طرف سے ابہام ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کہاجاتا ہے کہ مذاکرات کے لییہم نے فلاں کو اجازت دے دی ہے فیصلہ توآپ جوکرنا ہے، سیدھی بات کریں کہ آپ مذاکرات کے حق میں نہیں اورتشدد چاہتے ہیں، کیا بانی پی ٹی آئی کی پچھلی ملاقات سے کوئی فائدہ ہوا ہے؟ پی ٹی آئی والے کیوں نہیں کہتے کہ وزیراعظم آپ کی پیش کش موصول ہوئی ہے بتائیں کس ٹائم آپ کے پاس حاضرہوں؟مشیر سیاسی امور نے کہا کہ وزیراعظم نے تویہاں تک کہا ہے کہ میرے پاس نہیں آتے تواسپیکر چیمبر میں آئیں میں وہاں آجاتا ہوں، انہوں نے کوئی شرط نہیں رکھی یہ وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں توآئیں ملاقات کریں، یہ اجازت کیبغیرآگے نہیں بڑھ سکتے تووزیراعظم سے ملاقات میں یہ ہی بات کرلیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔