ایف بی آر کا حال ہی میں شادی کرنے والی معروف اداکارہ کے خلاف کارروائی کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پر گردش کردہ خبروں کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایک معروف پاکستانی اداکارہ کے مبینہ ٹیکس چوری کے کیس کی نشاندہی کی ہے۔
زیر گردش خبروں کے مطابق اداکارہ کے سوشل میڈیا پر تقریباً ایک کروڑ فالوورز ہیں اور اداکارہ نے گزشتہ سال کے آغاز میں شادی کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی فلم و ٹی وی اسٹار نے اپنی پرتعیش شادی پر مبینہ طور پر تقریباً 6 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کی۔
View this post on Instagramاداکارہ کی شادی کے بعد ایف بی آر نے جانچ کی تو اداکارہ کی ظاہر کردہ آمدن اور طرزِ زندگی کے درمیان نمایاں دکھائی دیا۔
رپورٹس کے مطابق اداکارہ نے 9 سال قبل ایف بی آر میں رجسٹریشن کروائی تھی، تاہم ان کے انکم ٹیکس گوشواروں کے مطابق ان کی مالی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ اپنے شادی پر کروڑوں روپے خرچ کیں اور اس کے علاوہ ان کے بیرون ملک دورے اور آئے روز کی تقریبات بھی ان کی آمدن کے مطابق نہیں ہیں۔
ایف بی آر کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز اور دیگر پوسٹوں سے جمع کردہ شواہد جن میں شادی کی تقریبات کے مقامات، کیٹرنگ، ملبوسات، زیورات اور پروڈکشن پر ہونے والے اخراجات کی مجموعی مالیت تقریباً 6 کروڑ 77 لاکھ روپے بنتی ہے۔
تاہم اداکارہ نے یہ اخراجات اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رقوم غیر رپورٹ شدہ آمدن سے ادا کی گئیں۔
ایف بی آر کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران اداکارہ کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات اور تقریبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر ٹیکس سے بچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایف بی آر نے سیکشن 111 کے تحت غیر واضح آمدن یا اثاثوں کے لیے نوٹس جاری کرنے کی سفارش کی ہے اور اگر اداکارہ شادی اور سفری اخراجات کے ذرائع کی تسلی بخش وضاحت نہ کرسکیں تو ان رقوم کو چھپی ہوئی آمدن تصور کر کے قابلِ ٹیکس آمدن میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اگر مناسب سمجھا گیا تو جان بوجھ کر ٹیکس چوری پر سیکشن 192-اے کے تحت قانونی کارروائی پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اب تک اداکارہ کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے تاہم گزشتہ سال کے آغاز میں شادی کرنے والی اداکاراؤں کی فہرست میں ماورا حسین بھی شامل ہیںجن کے انسٹاگرام پر 99 لاکھ، یوٹیوب پر 31 ہزار، فیس بک پر 24 لاکھ اور ایکس پر 19 لاکھ فالوورز موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔