امریکی شہری سے شادی اب گرین کارڈ کی ضمانت کیوں نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
عام طور پر امریکی شہری سے شادی کے ذریعے بھی گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم ایک امیگریشن وکیل نے واضح کیا ہے کہ اب امریکی شہری سے شادی کرنا گرین کارڈ کی ضمانت نہیں رہا۔
گرین کارڈ، جسے باضابطہ طور پر پرمننٹ ریزیڈنٹ کارڈ کہا جاتا ہے، کسی غیر ملکی شہری کو امریکا میں مستقل طور پر رہنے اور کام کرنے کا قانونی حق دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: H-1B لاٹری سسٹم ختم، امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا
گرین کارڈ رکھنے والوں کو قانونی طور پر لا فل پرمننٹ ریزیڈنٹس یعنی ایل پی آرز کہا جاتا ہے، جو کچھ شرائط پوری کرنے کے بعد امریکی شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
عموماً اس کے لیے امریکا میں مسلسل ایک مخصوص مدت، عام طور پر ایک سے 5 سال، قیام اور اچھے اخلاقی کردار کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد مزید سخت کردیے گئے
امیگریشن وکیل بریڈ برنسٹین کے مطابق موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں شادی کی بنیاد پر گرین کارڈ کی درخواستوں کی کڑی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
حکام اب اس بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ شادی حقیقی ہو، نہ کہ صرف امیگریشن فوائد کے لیے کی گئی ہو۔
Once you marry while waiting for a fiancee petition to be approved you will have to start all pver again causing significant delays.
— Law Offices of Spar & Bernstein (@bradbernstein27) December 31, 2025
میاں بیوی کا الگ الگ رہنا اکثر فراڈ کی گہری تحقیقات اور درخواست مسترد ہونے کا سبب بن رہا ہے۔
’اگر میاں بیوی ایک ساتھ نہیں رہتے تو ان کا گرین کارڈ کیس پہلے ہی کمزور ہو جاتا ہے۔ محض تعلق ہونا گرین کارڈ نہیں دلواتا، اکٹھا رہنا گرین کارڈ دلواتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: امریکا کا سفری پابندیوں کی فہرست مزید 30 سے زائد ممالک تک بڑھانے کا منصوبہ
انہوں نے فیس بک پر جاری ایک ویڈیو میں بتایا کہ امیگریشن حکام یہ جانچتے ہیں کہ شوہر اور بیوی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں یا نہیں۔
’امیگریشن افسران کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ الگ کیوں رہتے ہیں، چاہے وجہ ملازمت ہو، تعلیم، مالی مسائل یا سہولت۔‘
مزید پڑھیں: امریکا نے صدر ٹرمپ کے ناقد نوبیل انعام یافتہ نائجیرین ادیب کا ویزا منسوخ کردیا
اگر آپ روزانہ ایک ہی گھر میں نہیں رہتے تو امیگریشن حکام شادی پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں، اور جب سوال اٹھتے ہیں تو تحقیقات ہوتی ہیں۔
’۔۔۔جب وہ آپ کے دروازے پر آتے ہیں تو درخواست مسترد کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس لیے اگر آپ شادی کی بنیاد پر گرین کارڈ چاہتے ہیں تو اکٹھا رہیں، بس۔‘
مزید پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے مطابق، قانونی طور پر درست شادی بھی اس صورت میں حقیقی نہیں سمجھی جاتی اور شادی کی بنیاد پر درخواست مسترد کی جا سکتی ہے اگر فریقین نے نیک نیتی سے ازدواجی زندگی گزارنے کے ارادے کے بغیر، امیگریشن قوانین سے بچنے کے مقصد سے شادی کی ہو۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں گرین کارڈ لاٹری کو معطل کر دیا ہے، کیونکہ براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ اور ایم آئی ٹی کے ایک پروفیسر کا مبینہ قاتل اسی راستے سے امریکا میں داخل ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی کا نفاذ، گرین کارڈ ہولڈرز سمیت تمام تارکین وطن کی کڑی نگرانی کا فیصلہ
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، گرین کارڈ لاٹری کے تحت ہر سال امریکا میں کم امیگریشن رکھنے والے ممالک کے شہریوں کو 55 ہزار تک مستقل رہائشی ویزے دیے جاتے ہیں۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پروہ فوری طور پر یو ایس سی آئی ایس کو ڈی وی ون پروگرام روکنے کا حکم دے رہی ہیں، تاکہ اس تباہ کن پروگرام کے باعث مزید امریکیوں کو نقصان نہ پہنچے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امیگریشن سروسز براؤن یونیورسٹی شادی شہریت فائرنگ کرسٹی نوم گرین کارڈ لاٹری محکمہ خارجہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ویزا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امیگریشن سروسز براؤن یونیورسٹی شہریت فائرنگ کرسٹی نوم گرین کارڈ لاٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی ویزا گرین کارڈ کی امریکی شہری امریکا میں مزید پڑھیں کے مطابق شادی کی کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔