WE News:
2026-06-03@01:14:53 GMT

امریکی شہری سے شادی اب گرین کارڈ کی ضمانت کیوں نہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

امریکی شہری سے شادی اب گرین کارڈ کی ضمانت کیوں نہیں؟

عام طور پر امریکی شہری سے شادی کے ذریعے بھی گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم ایک امیگریشن وکیل نے واضح کیا ہے کہ اب امریکی شہری سے شادی کرنا گرین کارڈ کی ضمانت نہیں رہا۔

گرین کارڈ، جسے باضابطہ طور پر پرمننٹ ریزیڈنٹ کارڈ کہا جاتا ہے، کسی غیر ملکی شہری کو امریکا میں مستقل طور پر رہنے اور کام کرنے کا قانونی حق دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: H-1B لاٹری سسٹم ختم، امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا

گرین کارڈ رکھنے والوں کو قانونی طور پر لا فل پرمننٹ ریزیڈنٹس یعنی ایل پی آرز کہا جاتا ہے، جو کچھ شرائط پوری کرنے کے بعد امریکی شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

عموماً اس کے لیے امریکا میں مسلسل ایک مخصوص مدت، عام طور پر ایک سے 5 سال، قیام اور اچھے اخلاقی کردار کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد مزید سخت کردیے گئے

امیگریشن وکیل بریڈ برنسٹین کے مطابق موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں شادی کی بنیاد پر گرین کارڈ کی درخواستوں کی کڑی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

حکام اب اس بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ شادی حقیقی ہو، نہ کہ صرف امیگریشن فوائد کے لیے کی گئی ہو۔

Once you marry while waiting for a fiancee petition to be approved you will have to start all pver again causing significant delays.

Attorney Brad Bernstein breaks it down. #fiance #90dayfiance #90dayfianceoftiktok #greencard #lawtok ???????? pic.twitter.com/7SPH5grbds

— Law Offices of Spar & Bernstein (@bradbernstein27) December 31, 2025

میاں بیوی کا الگ الگ رہنا اکثر فراڈ کی گہری تحقیقات اور درخواست مسترد ہونے کا سبب بن رہا ہے۔

’اگر میاں بیوی ایک ساتھ نہیں رہتے تو ان کا گرین کارڈ کیس پہلے ہی کمزور ہو جاتا ہے۔ محض تعلق ہونا گرین کارڈ نہیں دلواتا، اکٹھا رہنا گرین کارڈ دلواتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: امریکا کا سفری پابندیوں کی فہرست مزید 30 سے زائد ممالک تک بڑھانے کا منصوبہ

انہوں نے فیس بک پر جاری ایک ویڈیو میں بتایا کہ امیگریشن حکام یہ جانچتے ہیں کہ شوہر اور بیوی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں یا نہیں۔

’امیگریشن افسران کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ الگ کیوں رہتے ہیں، چاہے وجہ ملازمت ہو، تعلیم، مالی مسائل یا سہولت۔‘

مزید پڑھیں: امریکا نے صدر ٹرمپ کے ناقد نوبیل انعام یافتہ نائجیرین ادیب کا ویزا منسوخ کردیا

اگر آپ روزانہ ایک ہی گھر میں نہیں رہتے تو امیگریشن حکام شادی پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں، اور جب سوال اٹھتے ہیں تو تحقیقات ہوتی ہیں۔

’۔۔۔جب وہ آپ کے دروازے پر آتے ہیں تو درخواست مسترد کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس لیے اگر آپ شادی کی بنیاد پر گرین کارڈ چاہتے ہیں تو اکٹھا رہیں، بس۔‘

مزید پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل

امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے مطابق، قانونی طور پر درست شادی بھی اس صورت میں حقیقی نہیں سمجھی جاتی اور شادی کی بنیاد پر درخواست مسترد کی جا سکتی ہے اگر فریقین نے نیک نیتی سے ازدواجی زندگی گزارنے کے ارادے کے بغیر، امیگریشن قوانین سے بچنے کے مقصد سے شادی کی ہو۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں گرین کارڈ لاٹری کو معطل کر دیا ہے، کیونکہ براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ اور ایم آئی ٹی کے ایک پروفیسر کا مبینہ قاتل اسی راستے سے امریکا میں داخل ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی کا نفاذ، گرین کارڈ ہولڈرز سمیت تمام تارکین وطن کی کڑی نگرانی کا فیصلہ

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، گرین کارڈ لاٹری کے تحت ہر سال امریکا میں کم امیگریشن رکھنے والے ممالک کے شہریوں کو 55 ہزار تک مستقل رہائشی ویزے دیے جاتے ہیں۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پروہ فوری طور پر یو ایس سی آئی ایس کو ڈی وی ون پروگرام روکنے کا حکم دے رہی ہیں، تاکہ اس تباہ کن پروگرام کے باعث مزید امریکیوں کو نقصان نہ پہنچے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امیگریشن سروسز براؤن یونیورسٹی شادی شہریت فائرنگ کرسٹی نوم گرین کارڈ لاٹری محکمہ خارجہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ویزا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امیگریشن سروسز براؤن یونیورسٹی شہریت فائرنگ کرسٹی نوم گرین کارڈ لاٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی ویزا گرین کارڈ کی امریکی شہری امریکا میں مزید پڑھیں کے مطابق شادی کی کے لیے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان