پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی انعامی رقم کا عالمی اسکواش ایونٹ 6 جنوری سے شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی انعامی رقم کا عالمی اسکواش ایونٹ ’ کراچی اوپن انٹرنیشنل اسکواش ٹورنامنٹ 2026‘ 6 جنوری سے شروع ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین سندھ اسکواش ایسوسی ایشن، سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان اور عدنان اسد نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایونٹ کی انعامی رقم 2 لاکھ 42 ہزار ڈالرز ہوگی۔
ٹورنامنٹ 6 جنوری سے 11 جنوری تک ڈی اے کریک کلب میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں مینز اور ویمنز کے مقابلے ہوں گے۔
یہ پی ایس اے کے ورلڈ ٹور کا گولڈ ایونٹ ہے جس میں دنیا کے معروف مرد اورخواتین کھلاڑی شرکت کریں گے۔
مینز ایونٹ میں عالمی نمبر 4 مصر کے کریم جواد ٹاپ سیڈ ہیں۔ مصر ہی کے عالمی نمبر 7 مروان الشورباگے سیڈ 2 کھلاڑی ہوں گے۔
ایونٹ میں پاکستان کے 4 کھلاڑی بھی شریک ہوں گے۔
عالمی انڈر23 چیمپئن و عالمی نمبر 38 نور زمان اور عالمی نمبر47 محمد اشعب عرفان براہ راست ایونٹ کا حصہ ہیں۔
سابق قومی چیمپئن ناصر اقبال اور طیب اسلم کو وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی ہے۔
ویمن ایونٹ میں عالمی نمبر 4 مصر کی امینہ عرفی ٹاپ سیڈ ہیں۔ ملائیشیا کی عالمی نمبر 7 سیوا سانگری سیڈ 2 ہیں۔
دو پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کو وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی ہے۔ سماعت و قوت گویائی سے محروم ثنا بہادر اور مریم ملک بھی شامل ہیں۔
بھارت نے دوسرے کھیلوں کی طرح اسکواش میں بھی سیاست کو شامل کردیا اور کسی بھارتیی کھلاڑی نے انٹری نہیں کروائی۔
یہ ایونٹ اگلے برس پلاٹینم ایونٹ بن جائے گا جس کی انعامی رقم 10 لاکھ ڈالرز رکھی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی نمبر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔