نجات کا واحد راستہ بیداری اور نصابِ بیداری امام علیؑ کی تعلیمات ہیں، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ نے خطاب میں کہا کہ جامعہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ قلعۂ وحدتِ امت ہے، جس کی جڑیں بیداری میں اور شاخیں فکر، تعلیم اور تربیت میں پیوست ہیں۔ نظامِ خدا کا حقیقی عنوان نظامِ ولایت اور نظامِ امامت ہے، اور انسانی سعادت اسی نظام کے سائے میں ممکن ہے، جہاں امام علیؑ قطبِ نظامِ امامت ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جامعہ عروۃُ الوثقیٰ لاہور میں یومِ ولادت حضرت امام علیؑ اور جامعہ کے سولہویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک عظیم الشان کانفرنس بعنوان "امامتِ عامہ و امامتِ خاصہ" منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک بھر سے تمام مکاتبِ فکر کے علما، طلبہ، دانشور اور قصیدہ خواں حضرات نے بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفٰی کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پیر غلام رسول اویسی، علامہ صداقت فریدی، علی دیپ رضوی اور ایرانی قونصلیٹ کے نمائندے علی رضا مسعودی شامل تھے۔
علامہ سید جواد نقوی نے خطاب میں کہا کہ جامعہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ قلعۂ وحدتِ امت ہے، جس کی جڑیں بیداری میں اور شاخیں فکر، تعلیم اور تربیت میں پیوست ہیں۔ نظامِ خدا کا حقیقی عنوان نظامِ ولایت اور نظامِ امامت ہے، اور انسانی سعادت اسی نظام کے سائے میں ممکن ہے، جہاں امام علیؑ قطبِ نظامِ امامت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نجات کا واحد راستہ بیداری ہے، اور اس بیداری کا کامل نصاب حضرت علیؑ کی تعلیمات میں موجود ہے۔ امام علیؑ کی حقیقی خوشی مظلوموں، خصوصاً غزہ اور فلسطین کی بھرپور حمایت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کلماتِ امام علیؑ ہمیں مظلوموں کے حق میں ڈٹ کر کھڑا ہونے اور ظالموں کے خلاف قیام کا درس دیتے ہیں۔
کانفرنس کے دوران مقررین نے حضرت امام علیؑ کی تعلیمات اور سیرت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے غزہ میں ظلم کے خلاف عملی کردار اور قیام کا پیغام دیا، جبکہ علی رضا مسعودی نے کہا کہ حکومتوں کا بنیادی فریضہ حق کا تحفظ اور عدل کا قیام ہے اور امام علیؑ کی تعلیمات ہر سطح پر رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ پیر غلام رسول اویسی نے امام علیؑ کو امتِ مسلمہ کے مرکزِ اتحاد قرار دیتے ہوئے ان کی آمد، حیات اور رخصت کو بے مثال قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی تعلیمات امام علی امت ہے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔