ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا امریکی صدر کے پیغام پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو “غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کی عوام ہمیشہ کی طرح داخلی امور میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کریں گے۔ “ہماری مسلح افواج پوری طرح الرٹ ہیں اور ایرانی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دینا جانتی ہیں۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران میں زرِمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے عوام احتجاج کر رہے ہیں، اور یہ ان کا جائز حق ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض احتجاجوں میں تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنوں اور پولیس اہلکاروں پر حملے بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف مزید تشدد ہوا تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ “امریکا پُرامن مظاہرین کو بچانے کے لیے ایران میں مداخلت کر سکتا ہے۔”
ایران نے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی مداخلت خطے میں مزید افراتفری کا سبب بنے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔