ایڈم گلکرسٹ کا بابر اعظم کی بیٹنگ پر تبصرہ: سست بیٹنگ ساتھی بلے باز پر دباؤ بڑھاتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
آسٹریلیا کے جارح مزاج وکٹ کیپر بلے باز ایڈم گلکرسٹ نے پاکستانی اسٹار بابر اعظم کی سست رفتار بیٹنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ساتھی بلے باز پر دباؤ بڑھتا ہے۔
آسٹریلیا میں جاری بگ بیش لیگ میں کمنٹری کے دوران ایڈم گلکرسٹ نے بابر اعظم کے بارے میں کہا کہ وہ پاور ہٹنگ کے لیے مشہور نہیں ہیں، اور ان کی اصل پہچان ان کی ٹائمنگ، کلاس اور تکنیکی مہارت ہے۔ گلکرسٹ کے مطابق، بابر اعظم پر یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہر گیند پر زبردستی باؤنڈری لگانے کی کوشش کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابر کو محدود اوورز کی کرکٹ میں زیادہ پروایکٹو ہونا ہوگا۔ ایک گیند پر ایک رن کے تناسب سے رنز بنانا اور ساری ذمہ داری دوسرے بیٹر پر ڈال دینا ٹیم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
گلکرسٹ نے بابر سے درخواست کی کہ وہ حالات کے مطابق کھیل کو آگے بڑھائیں، اسٹرائیک روٹیٹ کریں، اور جب موقع ملے تو گیپس میں شاٹس کھیل کر دباؤ کم کریں۔ ان کے خیال میں اگر بابر اپنی فطری بیٹنگ کے ساتھ تھوڑی جارحیت شامل کریں، تو وہ ٹیم کے لیے اور بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایڈم گلکرسٹ کا یہ تبصرہ بابر اعظم کی بیٹنگ کے انداز پر توجہ دلاتا ہے اور ان سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنی فطری تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ تھوڑی جارحیت دکھائیں تاکہ ٹیم کی کامیابی میں مزید مدد مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔