امریکی حملے میں صدر مادورو کی گرفتاری؛ وینزویلا کی نائب صدر کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
وینزویلا کی نائب صدر دَلسی رودریگیز نے ملک میں امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی مبینہ گرفتاری کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں قوم سے خطاب کیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری کیے گئے اس خطاب میں رودریگیز نے کہا کہ حکومت کو اب تک صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ نائب صدر نے بتایا کہ حکومت ان کے ٹھکانہ اور حالت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
رودریگیز نے امریکی حملے کو “شدید سامراجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا واضح ثبوت پیش کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے دوران ملک میں کئی سرکاری اہلکار، فوجی اور عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ رودریگیز نے قوم سے اتحاد اور یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال ملک کے لیے انتہائی سنگین ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلے تصدیق کی تھی کہ امریکا نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے صدر مادورو کو گرفتار کیا اور بیرون ملک منتقل کر دیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ مادورو کو کہاں لے جایا گیا، البتہ بعض امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کے لیے امریکا لائے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رودریگیز نے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔