آئی پی ایل میں بنگلا دیشی کھلاڑیوں پر سیاسی دباؤ؟ مستفیض الرحمن کی اسکواڈ سے اچانک ریلیز پر سوالیہ نشان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈین پریمیئر لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں سے متعلق فیصلوں پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں بنگلا دیشی کرکٹرز کے لیے راستے بتدریج بند کیے جانے کا تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
حالیہ پیش رفت میں بنگلا دیش کے تجربہ کار فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا، جس کے بعد اس فیصلے کے پس منظر میں سیاسی عوامل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مستفیض الرحمن کو ٹیم سے ریلیز کرنے کا فیصلہ محض تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان موجود کشیدہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے مؤقف کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی انتظامیہ نے بنگلا دیشی بولر کو اسکواڈ سے نکالنے کا اقدام کیا، جس نے آئی پی ایل کے غیر جانبدار تشخص پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
اس معاملے کو مزید حساس بنانے میں انتہا پسند ہندوتوا تنظیم شیوسینا کے حالیہ بیانات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے کھل کر آئی پی ایل میں بنگلا دیشی کھلاڑیوں کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔
ہریانہ میں شیوسینا کے رہنما نیرج سیٹھی کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ بنگلا دیش کے کرکٹرز کو بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، جس کے بعد ایسے فیصلوں کو سیاسی دباؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا بین الاقوامی کھیلوں کی بنیادی روح ہے، تاہم مستفیض الرحمن کی اچانک ریلیز نے یہ تاثر گہرا کر دیا ہے کہ آئی پی ایل میں بعض فیصلے کرکٹ سے زیادہ سیاسی ماحول کے زیرِ اثر ہو رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اس سے لیگ کی ساکھ اور خطے میں کرکٹ کے فروغ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مستفیض الرحمن بنگلا دیشی آئی پی ایل
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔