وینزویلا پر امریکی حملے پر دنیا کو تشویش لاحق، یورپی ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کے بعد عالمی برادری کی تشویش لاحق ہوگئی ہے، جبکہ اسپین نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
عالمی سطح پر یورپی ممالک کے علاوہ روس، چین، ایران اور دیگر نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کیا ہے، اور کشیدگی کم کرنے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر امریکا کا بڑا حملہ، صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ
یورپی یونین:
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یورپی یونین کے وینزویلا سفیر سے رابطہ کیا ہے۔
کالاس نے کہاکہ یورپی یونین نے پہلے ہی موقف اختیار کیا ہے کہ صدر مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں، تاہم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام ضروری ہے۔
بیلجیئم:
بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو نے بتایا کہ بیلجیئم کا سفارتخانہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں مکمل طور پر فعال ہے اور وہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
نیدرلینڈز:
ڈچ وزیر خارجہ ڈیوڈ فان ویل نے کہاکہ وینزویلا کی صورتحال ابھی غیر واضح ہے، تاہم وہ اپنے سفارتخانے کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔
پولینڈ:
پولینڈ کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کی تعداد کی تصدیق کی جا رہی ہے اور کہا کہ فی الحال کسی کو فوری مدد کی ضرورت نہیں، زیادہ تر شہری طویل عرصے سے وینزویلا میں مقیم ہیں۔
اسپین:
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہاکہ ان کی حکومت وینزویلا میں پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق اسپین کے سفارتخانے اور قونصل خانے فعال ہیں اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
اسپین کی وزارت خارجہ نے پہلے ہی ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پُرامن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس:
روسی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدام عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ روس نے زور دیا کہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔
بیلاروس:
صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی امریکی کارروائی کی سخت مذمت کی اور بیلاروس کی وزارت خارجہ نے اسے بین الاقوامی امن کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
ایران:
ایران نے امریکی حملے کو غیر قانونی اور جارحانہ بتایا اور کہا کہ اس سے وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی امن متاثر ہوا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور سیکرٹری جنرل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
چین:
چین نے واضح کیاکہ وہ وینزویلا کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے خلاف ہے اور امریکا سے پُرامن اور مستحکم راستہ اپنانے کا مطالبہ کیا۔ چین نے کہا کہ فوجی مداخلت عالمی امن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی گرفتاری کا دعویٰ، نائب صدر کا بیان سامنے آگیا
جرمنی اور فرانس:
جرمنی سمیت دیگر یورپی رہنماؤں نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا۔ فرانس نے بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ فوجی مداخلت خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر بڑا حملہ کیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی حملہ تشویش لاحق دنیا صدر ٹرمپ وی نیوز وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی حملہ تشویش لاحق دنیا وی نیوز وینزویلا بین الاقوامی یورپی یونین وینزویلا کے وینزویلا پر کیا ہے نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔