وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کے بعد عالمی برادری کی تشویش لاحق ہوگئی ہے، جبکہ اسپین نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

عالمی سطح پر یورپی ممالک کے علاوہ روس، چین، ایران اور دیگر نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کیا ہے، اور کشیدگی کم کرنے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھیں: وینزویلا پر امریکا کا بڑا حملہ، صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

یورپی یونین:

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یورپی یونین کے وینزویلا سفیر سے رابطہ کیا ہے۔

کالاس نے کہاکہ یورپی یونین نے پہلے ہی موقف اختیار کیا ہے کہ صدر مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں، تاہم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام ضروری ہے۔

بیلجیئم:

بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو نے بتایا کہ بیلجیئم کا سفارتخانہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں مکمل طور پر فعال ہے اور وہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

نیدرلینڈز:

ڈچ وزیر خارجہ ڈیوڈ فان ویل نے کہاکہ وینزویلا کی صورتحال ابھی غیر واضح ہے، تاہم وہ اپنے سفارتخانے کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔

پولینڈ:

پولینڈ کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کی تعداد کی تصدیق کی جا رہی ہے اور کہا کہ فی الحال کسی کو فوری مدد کی ضرورت نہیں، زیادہ تر شہری طویل عرصے سے وینزویلا میں مقیم ہیں۔

اسپین:

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہاکہ ان کی حکومت وینزویلا میں پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ان کے مطابق اسپین کے سفارتخانے اور قونصل خانے فعال ہیں اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

اسپین کی وزارت خارجہ نے پہلے ہی ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پُرامن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

روس:

روسی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدام عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ روس نے زور دیا کہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔

بیلاروس:

صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی امریکی کارروائی کی سخت مذمت کی اور بیلاروس کی وزارت خارجہ نے اسے بین الاقوامی امن کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔

ایران:

ایران نے امریکی حملے کو غیر قانونی اور جارحانہ بتایا اور کہا کہ اس سے وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی امن متاثر ہوا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور سیکرٹری جنرل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

چین:

چین نے واضح کیاکہ وہ وینزویلا کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے خلاف ہے اور امریکا سے پُرامن اور مستحکم راستہ اپنانے کا مطالبہ کیا۔ چین نے کہا کہ فوجی مداخلت عالمی امن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی گرفتاری کا دعویٰ، نائب صدر کا بیان سامنے آگیا

جرمنی اور فرانس:

جرمنی سمیت دیگر یورپی رہنماؤں نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا۔ فرانس نے بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ فوجی مداخلت خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر بڑا حملہ کیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی حملہ تشویش لاحق دنیا صدر ٹرمپ وی نیوز وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی حملہ تشویش لاحق دنیا وی نیوز وینزویلا بین الاقوامی یورپی یونین وینزویلا کے وینزویلا پر کیا ہے نے کہا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی