استور، برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کا کیپٹن سمیت تین شہید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
گزشتہ شب تقریباً تین بجے کے قریب گلتری بینڈ کے مقام پر یہ حادثہ پیش آیا، جب سڑک پر برف ہٹانے کا کام جاری تھا۔ اچانک برفانی تودہ گرنے کے باعث ایک افسوسناک حادثہ رونما ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے ضلع استور کے علاقے برزل ٹاپ پر برفانی تودے گرنے کے باعث حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک افسر، ایک سپاہی اور ایک سول اپریٹر شہید ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب تقریباً تین بجے کے قریب گلتری بینڈ کے مقام پر یہ حادثہ پیش آیا، جب سڑک پر برف ہٹانے کا کام جاری تھا۔ اچانک برفانی تودہ گرنے کے باعث ایک افسوسناک حادثہ رونما ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور مشکل موسمی و زمینی حالات کے باوجود ریسکیو آپریشن بلا تاخیر انجام دیا۔ ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام میتوں کو نکال لیا۔ اس حادثے میں پاک فوج کے کیپٹن اسمد، سپاہی رضوان اور سول آپریٹر محمد عیسیٰ خان نے وطن اور عوام کی خدمت کے دوران لائن آف ڈیوٹی میں اپنی جان قربان کر دی۔ یہ شہداء اپنی بہادری، قربانی اور فرض شناسی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ تمام شہداء کی میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کی جا رہی ہیں، جہاں انہیں فوجی اعزازات کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔