وزیر دفاع و سینیئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وفاقی سیکریٹری کی 35 سالہ خدمات کے بعد انہیں عام طور پر 6 سے 7 ملین روپے گریجویٹی ملتی ہے، جبکہ حالیہ چند ججز جنہوں نے استعفیٰ دیا، ریٹائر نہیں ہوئے، 156 سے 161 ملین روپے کے فوائد لے کر گھر چلے گئے۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کی پینشن میں 15 سالوں میں 400 فیصد سے زائد اضافہ، ریٹائرڈ ججز کی مراعات پر سوالات

سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر کوئی سیکریٹری استعفیٰ دیتا ہے تو اسے ریٹائرمنٹ فوائد نہیں ملتے، جو ناانصافی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ ججز ریٹائرمنٹ کے معیار کے مطابق مراعات کے اہل نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں بھاری ادائیگیاں موصول ہوئیں۔

انہوں نے کہاکہ ایک جج 1980 کی دہائی میں سی ایس ایس امتحان میں فیل ہو گیا تھا، پھر بھی انہیں یہ فوائد دیے گئے۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ ججز کی ادائیگیوں میں شفافیت اور انصاف ہونا چاہیے۔

انہوں نے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایک ممبر پارلیمنٹ چاہے 40 سال خدمات دے، انہیں نہ کوئی پلاٹ، نہ پینشن، نہ گاڑی یا اسٹاف ملتا ہے، بلکہ صرف ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جو حالیہ مہینوں میں ساڑھے 4 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پہلے یہ پونے 2 لاکھ روپے تھی۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ججز کے بھاری فوائد اور پارلیمنٹیرینز کی محدود مراعات میں فرق نہ صرف شفافیت کے اصول کے خلاف ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ ججز کی مراعات: ہاؤس رینٹ، جوڈیشل الاؤنس میں کتنے سو فیصد اضافہ؟

واضح رہے کہ حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم سے اختلافات کرتے ہوئے مستعفی ہونے والے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ کو پینشن کی مد میں ملنے والی مراعات کی تفصیل سامنے آئی ہے، جس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات پینشن مراعات جسٹس اطہر من اللّٰہ جسٹس منصور علی شاہ خواجہ آصف وزیر دفاع وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختلافات پینشن مراعات جسٹس اطہر من الل ہ جسٹس منصور علی شاہ خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز انہوں نے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ