عثمان خواجہ کے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد اسٹیو اسمتھ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے متعلق وضاحت پیش کردی۔

سڈنی میں پریس کانفرنس کے دوران اسٹیو اسمتھ نے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری میں پہلی بار عثمان خواجہ کے خلاف کھیلتے ہوئے ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کمال کے کھلاڑی بنیں گے۔

اسمتھ نے خواجہ کی ’شاندار کیریئر‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے آخری ٹیسٹ میچ میں شرکت کی توقع رکھتے ہیں۔

انہوں نے خواجہ کی 2018 میں پاکستان کے خلاف شاندار کارکردگی کو سراہا۔

اسمتھ کا کہنا تھا کہ مشکلات کے باوجود خواجہ نے ہمیشہ اپنی محنت سے راستہ بنایا، جو کہ ان کی شاندار کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

اسٹیو اسمتھ نے اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کرکٹ چھوڑنے کا ابھی کوئی خاص ارادہ نہیں ہے۔

اسمتھ کا کہنا تھا کہ عثمان خواجہ کے ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلوی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی محسوس ہوگی اور ایسی صورتحال میں ان کا کھیلنا بہت اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابھی کھیلنے کے لیے پرعزم ہیں اور ٹیم کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسٹیو اسمتھ عثمان خواجہ اسمتھ نے کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی