بھارت میں 22 جامعات کی جعلی ڈگریوں کا بڑا اسکینڈل بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت میں جعلی تعلیمی اسناد کے ایک بڑے اسکینڈل نے پورے تعلیمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ریاست کیرالہ میں پولیس نے جعلی ڈگریاں تیار کرنے والے ایک منظم گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں برآمد کر لی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کارروائی کے دوران 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر میڈیسن، نرسنگ، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل شعبوں کی جعلی اسناد تیار کرنے اور فروخت کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جعلی ڈگریاں نہ صرف کیرالہ بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی فروخت کی جا رہی تھیں، جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ نیٹ ورک کافی عرصے سے سرگرم تھا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ جعلی ڈگریاں 75 ہزار سے لے کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک میں فروخت کرتے تھے اور ان اسناد کی بنیاد پر کئی افراد نے سرکاری و نجی اداروں میں ملازمتیں بھی حاصل کی ہیں۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جعلی ڈگریوں پر بعض یونیورسٹیوں کی سرکاری مہر اور جعلی دستخط ثبت کیے جاتے تھے، تاکہ ان کی تصدیق مشکل ہو جائے۔ پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک تعلیمی نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا تھا اور طلبہ و ملازمت کے خواہشمند افراد کو آسان راستہ دکھا کر بھاری رقوم وصول کی جا رہی تھیں۔
اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد بھارت کے وزیر تعلیم نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی اسناد نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ان طلبہ کی محنت بھی ضائع کر دیتی ہیں جو ایمانداری سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے فراڈز کے خلاف سخت اقدامات کرے گی اور یونیورسٹیوں میں ڈیجیٹل تصدیقی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جعلی ڈگریاں
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔