سال نو کا پہلا سپر مون آسمان پر جلوہ گر، فلکیاتی ماہرین کی اہم پیشگوئیاں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
سال 2026 کا پہلا سپر مون آسمان پر نمودار ہو گیا ہے، جس میں چاند غیر معمولی طور پر بڑا اور روشن دکھائی دے گا۔ فلکیات میں اس سپر مون کو روایتی طور پر ’وولف مون‘ کہا جاتا ہے۔
یہ سپر مون دراصل گزشتہ سال اکتوبر 2025 کے آغاز ہونے والے سپر مون کا اختتام بھی ہے اور سال 2026 کا پہلا فلکیاتی مظاہرہ بھی شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ فلکیاتی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دوران کواڈرینٹڈ شہابی بارش اپنی شدت پر پہنچتی ہے۔
پاکستان میں یہ سپر مون شام 5 بجکر 51 منٹ پر طلوع ہوا، جس وقت چاند کی روشنی تقریباً 99.
زمین اور چاند کے درمیان موجود فاصلہ تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار 312 کلومیٹر ہے، اور سپر مون عام چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا اور 10 فیصد تک زیادہ روشن دکھائی دے گا۔
فلکیات کے ماہرین نے بتایا کہ سپر مون عموماً 3 سے 4 مسلسل وقوعات کے بعد نمودار ہوتے ہیں، اور موجودہ سپر مون کا سلسلہ 3 جنوری کے سپر مون کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اگلا سپر مون نومبر 2026 میں متوقع ہے، جو سال کا دوسرا اور آخری سپر مون ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سپر مون فلکیاتی ماہرین وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلکیاتی ماہرین وی نیوز
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔