بازؤں اور ٹانگوں سے محروم بھارتی لڑکی نے تیراندازی میں عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
بھارت کی 17 سالہ پیال ناگ نے تیراندازی کے میدان میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر کے تاریخ رقم کر دی۔ اوڑیسا کی رہائشی پیال نے نہ صرف بازؤں بلکہ ٹانگوں کے بغیر بھی تیراندازی سیکھی اور قومی مقابلوں میں حصہ لے کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔
پیال کا تعلق بالانگیر، اوڑیسا سے ہے اور بچپن میں ایک حادثے کے باعث وہ اپنے چاروں اعضاء سے محروم ہو گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ بجلی کے جھٹکے کا شکار ہوئیں، جس کے نتیجے میں جسمانی معذوری پیدا ہوئی۔
مگر پیال نے ہمت، مستقل محنت اور خصوصی تربیت کے ذریعے تیراندازی سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے منفرد انداز اور لگن کے ساتھ، انہوں نے تیر چلانا شروع کیا اور عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔
پیال کی یہ کامیابی نہ صرف ایک ذاتی فتح ہے بلکہ ایک مثال بھی ہے کہ جسمانی معذوری رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اسپورٹس کمیونٹی، تماشائیوں اور دیگر پیرا ایتھلیٹس نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں مشعلِ راہ قرار دیا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جسمانی مشکلات کے باوجود اپنے خوابوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔
پیال ناگ کی یہ سنگِ میل کامیابی کھیل کی دنیا کے ساتھ ساتھ سماجی کمیونٹی کے لیے بھی حوصلہ افزا پیغام ہے کہ عزم، تربیت اور جذبہ کسی بھی مشکل کو کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔