برطانیہ نے خلا میں فیکٹری قائم کر کے ٹیکنالوجی میں تاریخ رقم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی دوڑ اب زمین کی حدود سے نکل کر خلا تک پہنچ چکی ہے اور اسی دوڑ میں برطانیہ نے ایک غیر معمولی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
برطانیہ کی ایک نجی کمپنی نے خلا میں پہلی باقاعدہ فیکٹری قائم کر دی ہے، جو زمین سے سیکڑوں کلومیٹر بلند مدار میں کامیابی سے کام شروع کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کو جدید صنعت اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارڈف میں قائم برطانوی کمپنی اسپیس فورج نے مائیکروویو اوون کے سائز کی ایک منی فیکٹری خلا میں بھیجی، جو مدار میں پہنچنے کے بعد مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے۔ کمپنی نے اس فیکٹری میں نصب بھٹی کو کامیابی سے چلا کر ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت حاصل کرنے کا تجربہ مکمل کیا، جسے خلا میں صنعتی پیداوار کے آغاز کی جانب ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد مستقبل میں سیمی کنڈکٹرز کے لیے درکار اعلیٰ معیار کا مواد تیار کرنا ہے، جو زمین پر لا کر الیکٹرانکس، کمیونیکیشن، کمپیوٹنگ اور ٹرانسپورٹ جیسے حساس شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سیمی کنڈکٹرز جدید دنیا کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث خلا میں ان کی تیاری کو ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خلا کا وزن سے پاک ماحول ایٹمز کو انتہائی درست ترتیب سے جڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے جب کہ ویکیوم فضا آلودگی کے امکانات کو نہ ہونے کے برابر کر دیتی ہے۔ یہی عوامل خلا میں تیار ہونے والے مواد کو زمین پر تیار ہونے والے مواد کے مقابلے میں کہیں زیادہ خالص اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔
اسپیس فورج کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق خلا میں تیار کردہ سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والوں سے ہزاروں گنا زیادہ خالص ہو سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان جدید سیمی کنڈکٹرز کو مستقبل میں فائیو جی ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں، جدید طیاروں اور حساس دفاعی نظاموں میں استعمال کیا جا سکے گا۔
اس ابتدائی کامیابی کے بعد اسپیس فورج اب ایک بڑی خلائی فیکٹری کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو بیک وقت ہزاروں چپس کے لیے مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں صنعتی پیداوار کے تصور کو نئی شکل دینے جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیمی کنڈکٹرز جا رہا ہے خلا میں
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔