احتجاج جائز عمل، مگر ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا، علی خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل: ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا ہےکہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، مگر احتجاج اور بے امنی میں فرق ہے، اسلامی جمہوری ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا۔
دبئی سے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ دکان دار درست کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کاروبار کرنا مشکل ہے، جبکہ انہوں نے کہا کہ ہم مظاہرین سے بات کریں گے لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے بات کرنا بے سود ہے۔یہ بات انہو ںنے اپنے ایک بیان میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، مگر احتجاج اور بے امنی میں فرق ہے۔ مظاہرین سے بات چیت کی جا سکتی ہے اور حکام کو ان سے بات کرنی چاہیے، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے مکالمے کا کوئی فائدہ نہیں، شرپسندوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔
علی خامنہ ای نے مزید کہا کہ میں جانتا ہوں کہ صدر اور دیگر اعلیٰ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں دشمن بھی ملوث ہے، غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام فطری نہیں بلکہ اس میں دشمن ملوث ہے اور یقیناً اسے روکنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خامنہ ای نے کہا کہا کہ سے بات
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔