ایران میں چھٹے روز بھی پرتشدد مظاہرے، سرکاری اور تعلیمی ادارے بند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ایران میں مہنگائی، کرنسی بحران اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے چھٹے روز میں بھی جاری ہیں اور حالات کافی کشیدہ ہیں۔
یہ مظاہرے دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں میں جاری ہیں۔ مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں جس میں اب تک کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے باعث کئی شہروں میں اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔
یہ احتجاج ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اقتصادی مشکلات کے خلاف شروع ہوا ہے جس نے عوامی ناراضگی میں شدت پیدا کی ہے۔
مظاہروں نے عوامی ناراضگی کو وسیع پیمانے پر سیاسی احتجاج میں تبدیل کر دیا ہے جو کئی شہروں تک پھیل گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔