نیشنل کانفرنس حکومت کیلئے عوامی بہبود اولین ترجیح ہے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
عمران نبی ڈار نے کہا ہے کہ عمر عبداللہ حکومت لوگوں کی روزمرہ کی مشکلات سے بخوبی واقف بھی ہے اور انہیں سمجھتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عمر عبداللہ کی زیر قیادت جموں کشمیر کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ لوگوں کو راحت پہنچانے اور عوامی بہبود کو ترجیح دیتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور "ٹیرف آف دی ڈے" (ToD) سسٹم پر فی الحال روک لگا دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو سردیوں کے ایام میں مہنگی بجلی کے نرخ کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے.
پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، جس کی قیادت خود وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کر رہے ہیں، نے ایک خط کے ذریعے جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (JERC) کو بتایا کہ حکومت، جموں اور کشمیر دونوں پاور کمپنیوں کی آمدنی میں فرق (تفاوت کو) کو پورا کرنے کے لئے انہیں گرانٹ یعنی مالی مدد کرے گی۔ نیشنل کانفرنس نے اس فیصلے کو گھریلو صارفین کے لئے بڑی راحت قرار دیا ہے۔ وہیں حکمران جماعت کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا ہے کہ عمر عبداللہ حکومت لوگوں کی روزمرہ کی مشکلات سے بخوبی واقف بھی ہے اور انہیں سمجھتی بھی ہے اور اسی لئے گھریلو صارفین کو سردیوں میں مالی بعچھ سے بچانے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ کے لئے
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔