بنگلہ دیش میں متنازع بیان وائرل ہونے پر طلبا تحریک کے مقامی رہنما گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
بنگلہ دیش میں پولیس نے ‘اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ’ کے ایک مقامی طالب علم رہنما کو اس وقت حراست میں لے لیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ مبینہ طور پر ماضی میں پولیس اسٹیشن پر حملوں کا ذکر کرتے نظر آئے۔
پولیس حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے طالب علم کا نام مہدی حسن ہے، جو ضلع ہوبی گنج میں اس تحریک کے جنرل سیکریٹری ہیں اور برندا بن گورنمنٹ کالج کے پہلے سال کے طالب علم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: منصوبہ بند انتخابات قبول نہیں کیے جائیں گے، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا انتباہ
پولیس کا کہنا ہے کہ مہدی حسن کو ہفتے کی شام شائستہ گنج میں ایک مقامی سیاسی شخصیت کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ ہوبی گنج کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسز یاسمین خاتون نے تصدیق کی کہ مہدی اس وقت ضلعی پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں اور بعد ازاں فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔
مہدی حسن کی حراست کی خبر سامنے آتے ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔ اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ کے کارکنان پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئے اور داخلی راستہ بند کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ممکنہ صورتحال کے پیشِ نظر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔
تحریک کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ مہدی حسن کو کسی مقدمے کے بغیر حراست میں لیا گیا ہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا، احتجاج اور دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مہدی حسن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ شائستہ گنج پولیس اسٹیشن کے انچارج سے ایک احتجاج کے دوران بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ احتجاج ایک دوسرے طالب علم کارکن کی گرفتاری کے خلاف کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے امیر کی طارق رحمان سے ملاقات، بی این پی کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار
ویڈیو میں مہدی حسن یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ماضی میں کارکنان نے ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگائی تھی اور ایک پولیس افسر پر حملہ بھی کیا تھا، جس پر سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔
بعد ازاں پولیس نے پہلے گرفتار کیے گئے طالب علم کو سینیئر افسران کی مداخلت کے بعد رہا کر دیا۔ اسی روز بعد میں میڈیا کو بھیجے گئے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں مہدی حسن نے کہا کہ ان کے بیانات جذبات کی شدت میں دیے گئے تھے اور عوام تک غیر ارادی طور پر غلط پیغام پہنچا۔
اینٹی ڈسکرمنیشن اسٹوڈنٹس موومنٹ بنگلہ دیش کی جامعات میں سرگرم ایک تنظیم ہے، جو حالیہ مہینوں میں کئی احتجاجی مظاہروں میں شریک رہی ہے اور متعدد مواقع پر مقامی انتظامیہ کے ساتھ اس کے تصادم کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش پولیس گرفتاری ویڈیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پولیس گرفتاری ویڈیو پولیس اسٹیشن بنگلہ دیش طالب علم
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔