ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20سیزن 4کی فاتح ٹیم کو کتنے لاکھ ڈالرز ملیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20سیزن 4کی فاتح ٹیم کو کتنے لاکھ ڈالرز ملیں گے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 January, 2026 سب نیوز
دبئی:دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں اتوار کو ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20سیزن 4 کا شاندار فائنل ہونے جا رہا ہے، جہاں ڈیزرٹ وائپرز اور ایم آئی ایمیریٹس کے درمیان ٹائٹل کے لیے بھرپور مقابلہ ہوگا۔فائنل سے قبل پریس کانفرنس میں ڈیزرٹ وائپرز کے کپتان سیم کرن نے کہا کہ اہم لمحات کے لیے تیار رہنا اور ٹیم کے طور پر صحیح فیصلے کرنا سب سے اہم ہے۔ انفرادی کارکردگی اتنی اہم نہیں جتنی ٹیم کی جیت۔ فائنلز ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں دباؤ، شائقین، موقع اور ہم اس کے لیے تیار ہیں اور چیلنج کا انتظار کر رہے ہیں۔دوسری طرف ایم آئی ایمیریٹس کے کپتان کیرون پولارڈ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ فائنل کیا مانگتا ہے کیونکہ ہم پہلے بھی یہاں پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں یہ علم ہے کہ دباؤ کے تحت پرفارم کرنا کتنا ضروری ہے۔ کرکٹ سادہ ہے کبھی جیتیں، کبھی مخالف بہتر ہوتا ہے لیکن ہم نے ایک اور موقع کمائی ہے، اور یہی سب سے اہم بات ہے۔ فائنلز میں تحمل بہت ضروری ہے، اور اگر ہم اپنی منصوبہ بندی کے مطابق
کھیلیں تو جیت کے ہر موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20سیزن فور کے چیمپیئن کوسات لاکھ امریکی ڈالر اور ٹورنامنٹ ٹرافی ملے گی، جبکہ رنرز اپ کو تین لاکھ ڈالر ملیں گے۔ انفرادی کارکردگی کو بھی ٹورنامنٹ کی خصوصی بیلٹس کے ذریعے تسلیم کیا جائے گا،گرین بیلٹ (بہترین بیٹر)،وائٹ بیلٹ (بہترین باؤلر)،ریڈ بیلٹ (سب سے قیمتی کھلاڑی)،بلیو بیلٹ (بہترین یو اے ای کھلاڑی)ہر بیلٹ کے ساتھ 15ہزار امریکی ڈالر کا انعام بھی دیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحضرت علیؓ کی ولادت باسعادت کی تقریبات عقیدت واحترام سے منائی گئیں آئی ایل ٹی 20: ایم آئی ایمریٹس نے نائٹ رائیڈرز کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی ابوظبی نائٹ رائیڈرز نے دبئی کیپٹلز کو شکست دےُکر فائنل کی راہ ہموار کر لی ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20کا معیار ہر سال بہتر ہو رہا ہے: سائمن ڈول آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان آئی ایل ٹی 20،فخر زمان کی شاندار بیٹنگ کی بدولت ڈیزرٹ وائپرز فائنل میں پہنچ گئی ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی20 سیزن 4 کے پلے آف مرحلے کا آغاز، فائنل کی جنگ شروعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈی پی ورلڈ ا ئی ایل ٹی 20سیزن
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں