اپنے ایک بیان میں حزب‌ الله کے پارلیمانی رکن کا کہنا تھا کہ صیہونی رژیم، دن رات لبنان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وہ بلا روک ٹوک نہ صرف ہماری خودمختاری کو پامال کر رہی ہے بلکہ ہمارے بہت سے سیاستدان اس دراندازی کو درست بھی قرار دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ "حزب‌ الله" کے سیاسی دھڑے "الوفاء للمقاومۃ" كے پارلیمانی رکن "ایهاب حماده" نے كہا كہ عوام جان چكی ہے كہ حكومت ہماری حفاظت نہیں كرسکتی اور نہ ہی آئندہ كر پائے گی۔ عوام کو پتہ ہے کہ مقاومت کے آپشن کی حمایت کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقاومت نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت مقاومت، لبنان کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور جب بھی ضرورت پڑے فوراََ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں حاضر ہوگی۔ ایهاب حماده نے کہا کہ صیہونی رژیم، دن رات لبنان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وہ بلا روک ٹوک نہ صرف ہماری خودمختاری کو پامال کر رہی ہے بلکہ ہمارے بہت سے سیاست دان اس دراندازی کو درست قرار دے رہے ہیں، جن میں حزب الکتائب اللبنانیة کے رکُن اور وزیر خارجہ "یوسف رجی" پیش پیش ہیں۔ تاہم ہمارا اس طرح كے لوگوں كو پیغام ہے كہ ہر چیز كی ایک حد ہوتی ہے اور یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔

واضح رہے کہ حزب الکتائب اللبنانیة کی قیادت سمیر جعجع کے ہاتھ میں ہے، جب کہ لبنان کے حالیہ وزیر خارجہ یوسف رجی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ حزب‌ الله سے اس جماعت اور اس کے سربراہ کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وہ مقاومت کے شدید مخالف اور صیہونی رژیم کے حامی سمجھتے جاتے ہیں۔ حال ہی میں بھی یوسف رجی نے اپنے سربراہ کے موقف کو دُہراتے ہوئے حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب‌ الله کو چاہئے کہ وہ اپنے سیکورٹی و عسکری ادارے ختم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں ایک غیر قانونی مسلح تنظیم کا وجود قابل قبول نہیں۔ لبنان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے حزب‌ الله کو ختم کرنا ہوگا۔ اس لئے صرف ہتھیار لینا کافی نہیں۔ قابل غور بات ہے کہ یوسف رجی اور ان کی جماعت اکثر لبنان کی دفاعی قوتوں کے خلاف تو بات کرتے ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی صیہونی جرائم پر زبان نہیں کھولی۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے مسلسل حملوں پر وہ خاموش ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے یوسف رجی رہی ہے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم