امریکا کے صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے میرے حکم پر حملہ کیا۔

وینزویلا میں حملے اور صدر و اہلیہ کی گرفتاری کے حوالے سے ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے میرے حکم پر رات گئے اور آج صبح وینزویلا کو نشانہ بنایا اور فوجی قوت کا ناکارہ بنادیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائی سے کراکس کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا جبکہ ہمارے فوجیوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑلیا۔

مزید پڑھیں

گرفتاری اور امریکا منتقلی؛ وینزویلا میں مادورو کا جانشین کون ہوگا ؟

گرفتاری سے چند روز قبل وینزویلا کے صدر امریکا کیساتھ مذاکرات کیلیے تیار ہوگئے تھے

ٹرمپ نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا نے ایسا حملہ نہیں دیکھا، امریکا کے پاس دنیا کا بہترین اسلحہ ہے اور ہم دوسرے حملے کیلیے بھی تیار ہیں تاہم ایسا لگتا ہے کہ دوسرے حملے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وینزویلا کے تمام معاملات اقتدار کی منتقلی تک امریکا چلائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں 97 فیصد منشیات سمندر کے راستے آتی ہے، امریکا نے وینزویلا کے دل میں تاریخی آپریشن کیا کیونکہ وہاں کے لوگ دہائیوں سے مشکلات کا شکار تھے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ ابھی بحری جہاز میں ہیں، جو نیویارک کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل