وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک تمام معاملات امریکا چلائے گا، دوسرا حملہ بھی کرسکتے ہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکا کے صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے میرے حکم پر حملہ کیا۔
وینزویلا میں حملے اور صدر و اہلیہ کی گرفتاری کے حوالے سے ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے میرے حکم پر رات گئے اور آج صبح وینزویلا کو نشانہ بنایا اور فوجی قوت کا ناکارہ بنادیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائی سے کراکس کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا جبکہ ہمارے فوجیوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑلیا۔
مزید پڑھیںگرفتاری اور امریکا منتقلی؛ وینزویلا میں مادورو کا جانشین کون ہوگا ؟
گرفتاری سے چند روز قبل وینزویلا کے صدر امریکا کیساتھ مذاکرات کیلیے تیار ہوگئے تھے
ٹرمپ نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا نے ایسا حملہ نہیں دیکھا، امریکا کے پاس دنیا کا بہترین اسلحہ ہے اور ہم دوسرے حملے کیلیے بھی تیار ہیں تاہم ایسا لگتا ہے کہ دوسرے حملے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وینزویلا کے تمام معاملات اقتدار کی منتقلی تک امریکا چلائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں 97 فیصد منشیات سمندر کے راستے آتی ہے، امریکا نے وینزویلا کے دل میں تاریخی آپریشن کیا کیونکہ وہاں کے لوگ دہائیوں سے مشکلات کا شکار تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ ابھی بحری جہاز میں ہیں، جو نیویارک کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔