پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
حکومتِ پنجاب نے لاہور میں بسنت کو محفوظ انداز میں منانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں بسنت پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت: پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا فیصلہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مقصد کے تحت شہر بھر میں 100 سیفٹی کیمپس قائم کیے جائیں گے جبکہ شہریوں میں 10 لاکھ سیفٹی راڈز تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 23 مختلف روٹس پر فری رائیڈ کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق محفوظ بسنت کی تقریبات صرف ضلع لاہور کی حدود میں 3 روز تک، یعنی 6، 7 اور 8 فروری کو منعقد ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ پتنگ اور ڈور کی فروخت یکم فروری سے 8 فروری 2026 تک کی اجازت ہوگی، تاہم 6 فروری سے پہلے لاہور میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 3روزہ ’محفوظ بسنت‘ منانے کا فیصلہ، سخت قوانین نافذ
ان کا کہنا تھا کہ محفوظ بسنت کے تینوں دنوں میں سیفٹی راڈ کے بغیر کسی موٹر سائیکل کو لاہور کی سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید یہ کہ پتنگ بازی میں استعمال ہونے والے مواد کی تیاری بھی صرف ضلع لاہور تک محدود رکھی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اہم فیصلہ پنجاب حکومت محفوظ بسنت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اہم فیصلہ پنجاب حکومت محفوظ بسنت وی نیوز محفوظ بسنت
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔