پاکستان میں نئے سال کے پہلے سپر مون کا نظارہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان میں نئے سال کے آغاز پر پہلے سپر مون کا نظارہ جاری ہے۔
آسمان دیکھا جانےو لا یہ سپر مون، عام چاندسے بڑا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سپر مون کو وولف مون بھی کہا جاتا ہے اور یہ عام چاند سے تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا محسوس ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق، سپر مون کے دوران چاند کی روشنی 99.8 فیصد تک ہوگی اور یہ 3 اور 4 جنوری کی رات سب سے زیادہ نمایاں طور پر دیکھا جا سکے گا۔
یہ سپر مون ایک ایسے سلسلے کی آخری کڑی ہے جو اکتوبر 2025 میں شروع ہوا تھا۔ رواں سال نومبر میں سال کا دوسرا اور آخری سپر مون ہوگا، اور 2026 میں اس کے بعد کوئی تیسرا سپر مون نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس شاندار فلکیاتی مظہر کا نظارہ کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔