Jasarat News:
2026-07-24@02:45:46 GMT

امت خود اپنے ساتھ کب کھڑی ہوگی؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260104-03-3

 

مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ خطے کی سیاسی بساط تیزی سے اُلٹ پلٹ ہو رہی ہے، طاقت کے مراکز نئی صف بندیاں کر رہے ہیں اور عالمی طاقتیں ایک بار پھر مسلم دنیا کو اپنے مفادات کی شطرنج پر مہروں کی طرح استعمال کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ایسے میں امت ِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ امت خود اپنے ساتھ کب کھڑی ہوگی؟ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطہ بظاہر ایک سفارتی روایت کا تسلسل ہے، مگر درحقیقت یہ رابطہ ایک وسیع تر علاقائی اور عالمی پس منظر رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بالخصوص غزہ میں جاری انسانی المیے اور خطے میں ممکنہ عسکری پیش رفت پر تبادلہ ٔ خیال اس بات کی علامت ہے کہ اسلام آباد اور ریاض حالات کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن کے قیام پر زور دینا ایک درست اور ذمے دارانہ موقف ہے، کیونکہ عسکری تصادم کا دائرہ وسیع ہونے کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ کمزور اقوام اور عام شہریوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ غزہ آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ امت ِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ وہاں نہ صرف عمارتیں مسمار ہو رہی ہیں بلکہ عالمی انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی عمارت بھی ملبے کا ڈھیر بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں بڑی طاقتوں کی جانب سے یہ تجاویز آنا کہ غزہ کی پوری آبادی کو کسی اور مقام پر منتقل کر دیا جائے یا حماس کو یک طرفہ طور پر غیر مسلح کر دیا جائے، دراصل مظلوم کو مجرم اور ظالم کو منصف بنانے کی ایک کھلی کوشش ہے۔ کسی قوم کو اس کی زمین سے بے دخل کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ تاریخ کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے فیصلے طویل المدت تباہی، مزاحمت اور عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں۔ یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ اگر حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو اسرائیل کے بے پناہ عسکری ذخائر، اس کی جارحانہ پالیسیوں اور مسلسل جنگی جرائم پر خاموشی کیوں؟ انصاف اگر واقعی مقصود ہے تو وہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان اور سعودی عرب کا اس معاملے پر یکساں موقف رکھنا ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر محض بیانات کافی نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا محض ردعمل کی سیاست سے نکل کر ایک واضح، مستقل اور اصولی حکمت ِ عملی اختیار کرے۔ ان دنوں سنجیدہ حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ اگر سعودی عرب مستقبل میں ابراہیمی معاہدے کو تسلیم کرتا ہے تو پاکستان پر بھی ایسا کرنے کا دباؤ بڑھے گا، خصوصاً دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تناظر میں۔ تاہم ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ واضح اعلان کہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے بغیر ابراہیمی معاہدہ قابل ِ قبول نہیں، یہ گو کہ فلسطین مسئلے کا حل نہیں لیکن یہ بیان اہم ہے سعودی پالیسی کی وضاحت ہے بلکہ امت ِ مسلمہ کے لیے ایک اہم سفارتی اشارہ بھی ہے۔ اس موقف کو مضبوط اور بامعنی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے عملی اقدامات، سفارتی دباؤ اور عالمی فورموں پر مسلسل آواز کے ساتھ جوڑا جائے۔ لیکن یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا ریاست ایک ہی ہے اور اس کا نام فلسطین ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو ریاستوں کے باہمی مفادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ تعلق ایک تاریخی، نظریاتی اور تہذیبی پس منظر رکھتا ہے۔ دونوں ممالک خود کو حرمین شریفین اور عالم ِ اسلام کی سلامتی کا فطری محافظ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے یہ بات بھی سامنے رکھنا ناگزیر ہے کہ پاکستانی افواج کو کسی بھی صورت مشرقِ وسطیٰ کے کسی نئے عسکری محاذ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان پہلے ہی داخلی سلامتی، سرحدی چیلنجز اور معاشی دباؤ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ کسی بیرونی تنازع میں فوجی مداخلت نہ صرف پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف ہو گی بلکہ اس سے امت ِ مسلمہ میں مزید تقسیم اور بداعتمادی بھی جنم لے سکتی ہے۔ پاکستان کا کردار عسکری نہیں بلکہ اخلاقی، سفارتی اور فکری ہونا چاہیے اور پاکستان کو کسی صورت بھی فوج غزہ نہیں بھیجنی چاہیے، پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے، اور ایک ذمے دار ریاست کی حیثیت سے، عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی حقوق کی بات مؤثر انداز میں کر سکتا ہے اور امت مسلمہ کو اسرائیل کے خلاف فوج منظم کرنے کی ضرورت ہے یہی وہ کردار ہے جس کی آج غزہ کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اسی طرح سعودی عرب بھی محض مالی امداد یا وقتی ریلیف تک خود کو محدود نہ رکھے۔ یقینا سعودی عرب کی مالی معاونت اور انسانی امداد قابل ِ قدر ہے، مگر فلسطین کا مسئلہ چند ارب ڈالر کے پیکیجز سے حل نہیں ہو گا۔ یہ مسئلہ ایک سیاسی، تہذیبی اور ایمانی مسئلہ ہے، جس کے لیے طویل المدت، مشترکہ اور جرأت مندانہ حکمت ِ عملی درکار ہے۔ فلسطینیوں کے خون اور قربانی کو محض اخباری سرخیوں یا سفارتی بیانات تک محدود رکھنا امت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک اپنے اپنے قومی مفادات کے محدود دائرے سے نکل کر امت ِ مسلمہ کے اجتماعی مفاد کو مرکز ِ نگاہ بنائیں۔ اگر آج بھی ہم نے فلسطین کو صرف ایک ’’علاقائی تنازع‘‘ سمجھ کر نظرانداز کیا تو کل یہی آگ کسی اور دروازے پر دستک دے سکتی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان رابطہ، اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک بدلتے حالات میں قریبی مشاورت کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے وزیراعظم کی ملاقات اس خطے میں سفارتی سرگرمیوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم ان تمام رابطوں اور ملاقاتوں کا اصل امتحان اس وقت ہو گا جب انہیں فلسطین کے حق میں کسی ٹھوس، اجتماعی اور جرأت مندانہ اقدام میں ڈھالا جائے گا۔ آخرکار سوال یہ ہے کہ کیا امت ِ مسلمہ واقعی ایک امت بن کر سوچنے کے لیے تیار ہے، یا وہ بدستور قومی مفادات، وقتی فوائد اور عالمی دباؤ کے زیر ِ اثر بکھری رہے گی؟ پاکستان اور سعودی عرب جیسے کلیدی ممالک اگر اس مرحلے پر قیادت کا کردار ادا کریں، اور فلسطین کو امت کے مشترکہ ضمیر کا مسئلہ بنا دیں تو تاریخ انہیں ایک مثبت موڑ دینے والوں میں شمار کرے گی۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال کریں گی کہ جب غزہ جل رہا تھا، تب امت کہاں تھی؟ یہ وقت محض بیانات، ملاقاتوں اور فون کالز کا نہیں، بلکہ فیصلوں، قربانیوں اور اصولی موقف کا ہے۔ امت ِ مسلمہ کو اگر واقعی زندہ رہنا ہے تو اسے فلسطین میں بہتے خون کو اپنے دل کی دھڑکن سے جوڑنا ہوگا، ورنہ تاریخ بے رحم سوال ضرور پوچھے گی۔

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور سعودی عرب کے درمیان اور عالمی مسلمہ کے ہے کہ ا کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم