پاکستان میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی اور انٹرنیٹ کے استعمال میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان بیورو آف شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے تحت انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے متعلق مثبت نتائج کا خیرمقدم کیا ہے جس سے ملک بھر میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی میں نمایاں توسیع ظاہر ہوتی ہے۔
سروے کے مطابق پاکستان میں 96 فیصد سے زائد گھرانوں کو موبائل یا اسمارٹ فون سہولیات تک رسائی ہے جبکہ ان میں سے 70 فیصد سے زائد گھرانے انٹرنیٹ خدمات سے مستفید ہو رہے ہیں جو 2019 میں محض 34 فیصد تھے۔
صوبہ خیبر پختونخوا گھریلو سطح پر 77 فیصد ڈیجیٹل رسائی کے ساتھ سب سے آگے ہے جو ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
یہ کامیابی حکومتِ پاکستان اور ریگولیٹر کے لیے باعثِ فخر ہے جس سے گھروں تک بہتر رسائی، سروسز کی دستیابی اور موبائل ہینڈ سیٹس و انٹرنیٹ سہولیات کی استطاعت میں بہتری کے لیے جاری کاوشیں ظاہر ہوتی ہیں۔
سروے میں ڈیجیٹل شعور میں اضافے، آن لائن دنیا میں محفوظ طرزِ استعمال، اور عوام کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں نمایاں بہتری واضح طور پر سامنے آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں نمایاں میں ڈیجیٹل
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ