ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستانی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی عالمی منڈیوں تک رسائی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی مربوط اور مؤثر سہولت کاری کے باعث پاکستانی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل کے اسٹریٹجک وژن کی بدولت پاکستان فنی مہارت اور ڈیجیٹل خدمات کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، جس کے نتیجے میں ملکی آئی ٹی انڈسٹری مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اسی سلسلے میں معروف کمپنی سپر نیٹ عالمی مارکیٹس میں قدم جمانے کے لیے تیار ہے۔
سپر نیٹ گلوبل کے تحت دبئی کو پہلا علاقائی ہب بنایا جا رہا ہے، جہاں سے عالمی کلائنٹس کو خدمات فراہم کی جائیں گی۔ دبئی سے سپر نیٹ کمپنی اداروں، کیریئرز اور انٹرپرائز کلائنٹس کو ڈیجیٹل اور تکنیکی خدمات فراہم کرے گی جب کہ کمپنی کی عالمی مارکیٹس میں توسیع کے لیے مشرقِ وسطیٰ، افریقا اور وسطی ایشیائی ممالک پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
سپر نیٹ گلوبل مشرقِ وسطیٰ اور افریقا کے اربوں ڈالر کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں پاکستان کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی ایک بڑی طاقت سیٹلائٹ کمیونیکیشن مارکیٹ ہے، جس کے 2030 تک نمایاں طور پر بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سپر نیٹ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات برقرار رہیں گی، جس کے نتیجے میں ملکی ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ سپر نیٹ گلوبل کے مطابق یہ حکمت عملی عالمی ڈیجیٹل مارکیٹس میں مؤثر انداز میں حصہ لینے اور پاکستانی مہارت، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو برآمد کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔
سپر نیٹ گلوبل نے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور طویل المدتی زرمبادلہ آمدنی میں اضافے کا عندیہ بھی دیا ہے جب کہ کمپنی کا عالمی توسیعی اقدام پاکستان کے آئی ٹی شعبے کی بین الاقوامی شناخت کو نئی جہت دے رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری نے پاکستانی آئی ٹی ٹیلنٹ اور جدت کو عالمی مارکیٹس تک پہنچا کر ملک کے ٹیک سیکٹر اور اقتصادی مستقبل کو مزید مضبوط کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپر نیٹ گلوبل کے لیے آئی ٹی
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔