جنگ میں بھارت سے فتح کے بعد پاکستان کا عالمی سطح پر وقار بلند ہوا، رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کا کہنا ہے کہ جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر جو مقام اور وقار ملا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ملا، اس کامیابی کے بعد پاکستان کا وقار عالمی سطح ہر بلند ہوا۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ گزشتہ برس پاک امریکا تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان متعدد سطحوں پر روابط قائم ہوئے جو باہمی اعتماد اور تعاون کے فروغ کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا کریڈٹ ملکی قیادت کو جاتا ہے۔
رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان طویل عرصے پر محیط شراکت داری موجود ہے اور امریکا میں پاکستان کی سفارت کاری مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاک امریکا تعلقات اور شراکت داری میں مزید بہتری آئے گی۔
پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے جبکہ پاک امریکا شراکت داری عالمی امن و استحکام کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے تعلقات آنے والے وقت میں مزید مستحکم ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رضوان سعید شیخ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔