پاکستان میں 2025ء کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں کتنا اضافہ ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستان انسٹیٹیویٹ آف پیس اسٹیڈیز کی جانب سے پاکستان سیکیورٹی رپورٹ 2025ء جاری کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2025ء میں دہشتگردی کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہوا، سال بھر میں 699 حملے ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025ء میں دہشتگرد حملوں میں 1034 افراد جاں بحق جبکہ 1366 افراد زخمی ہوئے، اموات میں 21 فیصد اضافہ ہوا، انسانی جان کے نقصان میں یہ اضافہ تشویشناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشتگردی کا سب سے زیادہ نشانہ سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بنے، 437 اہلکار شہید ہوئے، شہداء میں 174 پولیس اہلکار، 122 فوجی جوان اور 107 ایف سی اہلکار شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2025ء میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور خودکش حملوں میں 243 دہشتگرد ہلاک ہوئے، 2025ء میں دہشتگرد حملوں میں 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2025ء میں 454 دہشتگرد حملے مذہبی شدت پسند گروہوں کی جانب سے کیے گئے، مذہبی شدت پسندوں کے حملوں میں 2024ء کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اتحادی گروہ کو دہشتگردی کا بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں ٹی ٹی پی، حافظ گل بہادر گروپ، لشکرِ اسلام اور داعش خراسان سرگرم ہے، ان گروہوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں 679 افراد جاں بحق اور881 زخمی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق اضافہ ہوا حملوں میں
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔