Jasarat News:
2026-06-03@02:17:02 GMT

امن کی سرحدیں، امید کا خطہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جب قومیں تاریخ کے آئینے میں اپنے زخم دیکھتی ہیں تو ان کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں، یا تو وہ ماضی کی تلخیوں کو دل میں بسا کر نفرت اور تصادم کا سفر جاری رکھیں، یا پھر انہی تجربات سے سیکھ کر امن، مفاہمت اور تعاون کا نیا باب رقم کریں۔ ہمارا خطہ دہائیوں سے جنگ، عدم اعتماد اور کشیدگی کی بھاری قیمت ادا کرتا آ رہا ہے، مائوں نے اپنے بیٹے کھوئے، بچوں نے خوف کے سائے میں آنکھ کھولی اور سرحدیں صرف جغرافیائی لکیریں نہیں رہیں بلکہ دلوں کے درمیان دیواریں بھی بن گئیں، ایسے حالات میں افغانستان سمیت تمام پڑوسی ممالک، بالخصوص بھارت، ایران اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کسی کمزوری یا مجبوری کا اظہار نہیں بلکہ ایک بالغ، باشعور اور ذمے دار قوم کی دانش مندانہ سوچ کی عکاس ہے، یہ خواہش اس امید سے جنم لیتی ہے کہ شاید آنے والی نسلیں بارود کی بو کے بجائے امن کی فضا میں سانس لے سکیں اور نفرت کے نعروں کے بجائے تعاون اور ترقی کی آوازیں سن سکیں۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات محض سرحدی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخ، مذہب، ثقافت اور انسانیت کے گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، مہاجرین کی طویل میزبانی، سرحد پار خاندانی روابط اور مشترکہ روایات اس بات کی گواہ ہیں کہ افغانستان میں امن دراصل پاکستان اور پورے خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے، اسی لیے پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات احترامِ باہمی، عدم مداخلت، سرحدی نظم و نسق اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھیں تاکہ دہشت گردی، اسمگلنگ اور بدامنی جیسے مسائل کا خاتمہ ہو اور تجارت، ٹرانزٹ اور عوامی روابط کو فروغ ملے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی تاریخی ہمسائیگی، مذہبی قربت اور ثقافتی رشتوں پر قائم ہیں، توانائی کے شعبے میں تعاون، سرحدی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی شراکت دار ہیں، بہتر تعلقات نہ صرف دونوں عوام کے لیے معاشی مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ خطے میں توازن اور امن کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی اور شراکت داری اعتماد، مستقل مزاجی اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال ہے، پاک چین اقتصادی تعاون اور اقتصادی راہداری جیسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پرامن تعاون کس طرح ترقی، روزگار اور علاقائی رابطہ کاری کے نئے دروازے کھولتا ہے، چین کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کے معاشی مستقبل اور خطے کی مشترکہ خوش حالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات بلاشبہ پیچیدہ اور حساس ہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان کا اصولی مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ تمام تنازعات، بشمول دیرینہ مسائل کا حل جنگ یا دھمکی میں نہیں بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے بغیر ترقی ایک خواب ہی رہے گی اور اس خطے کے کروڑوں عوام غربت اور عدم استحکام کی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھی پاکستان توانائی، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے وسیع امکانات دیکھتا ہے، بحیرۂ عرب تک رسائی اور زمینی راستے پاکستان کو قدرتی پل بناتے ہیں جو پورے خطے کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں یہ حقیقت بھی نہایت اہم ہے کہ اچھی ہمسائیگی کی پالیسی صرف حکومتی بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عوامی سطح پر روابط، تعلیمی و ثقافتی

تبادلے، کھیلوں، میڈیا اور کاروباری تعاون کے ذریعے اعتماد کی فضا قائم کرنا بھی ناگزیر ہے، سرحدی علاقوں کی ترقی، قانونی کراسنگ پوائنٹس، ویزا سہولتیں اور تجارت میں آسانیاں وہ عملی اقدامات ہیں جو فاصلے کم اور شکوک و شبہات دور کر سکتے ہیں۔ پاکستان اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ علاقائی سیاست میں عالمی طاقتوں کے مفادات بھی اثر انداز ہوتے ہیں، مگر ایک خودمختار خارجہ پالیسی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بیرونی دباؤ کے بجائے اپنے قومی مفاد، علاقائی امن اور عوامی خوش حالی کے اصولوں پر استوار کریں۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، وبائی امراض اور معاشی عدم استحکام جیسے چیلنجز کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں، ان سے نمٹنے کے لیے افغانستان، بھارت، ایران، چین اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی اور تعاون ناگزیر ہے، کیونکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات صرف سرحدی سکون نہیں بلکہ روزگار، سرمایہ کاری، ترقی اور انسانی وقار کی ضمانت بھی بنتے ہیں۔ آخرکار تاریخ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو دیواریں نہیں بلکہ پل بناتی ہیں، جو ماضی کی دشمنیوں میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی تعمیر کا حوصلہ رکھتی ہیں، افغانستان سمیت بھارت، ایران، چین اور تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش دراصل ایک ایسے خطے کی دعا ہے جہاں سرحدیں خوف کی نہیں بلکہ تعاون کی علامت ہوں، اختلاف دشمنی نہیں بلکہ مکالمے کا نقطہ ٔ آغاز بنے اور طاقت کا معیار ہتھیار نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور انسانیت ہو، کیونکہ اصل فتح زمین کے ٹکڑے جیتنا نہیں بلکہ دلوں کو جیتنا ہوتی ہے اور یہی راستہ قوموں کو عروج، خطوں کو استحکام اور آنے والی نسلوں کو امن کا تحفہ دیتا ہے۔

محمد جمیل احمد خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کے بجائے سکتے ہیں ہیں بلکہ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ