پرندوں کی ہلاکت‘ ٹرمپ نے پون چکیوں کو مضر قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پرندوں کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بیان میں پون چکیوں کو مضر قرار دے دیا ۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ونڈ ٹربائنز کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز گر رہے ہیں تاہم ان کے دعوے میں دکھائی گئی تصاویر میں اصل پرندہ بالڈ ایگل نہیں بلکہ اسپین کا ریڈ کائٹ تھا۔ ٹرمپ نے اس سے قبل بھی کئی پوسٹوں میں کہا کہ ونڈ ٹربائنز لاکھوں پرندوں کی جان لے رہی ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے پرندوں کے جھنڈ کی تصویر شیئر کی ،جو دراصل 2006 کی تھی اور تائیوان کی ایک ماحولیاتی تنظیم نے شائع کی تھی۔ حقائق پر نظر ڈالیں تو امریکا میں پون چکیوں سے ہونے والی پرندوں کی ہلاکت کا درست ڈیٹا محدود ہے۔ ایم آئی ٹی کلائمٹ پورٹل کی رپورٹس کے مطابق 2013 ء اور 2014 ء میں ہر سال ایک لاکھ 40 ہزار سے 6 لاکھ 79 ہزار پرندے ونڈ ٹربائنز سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پرندوں کی
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔