سوشل میڈیا کے سستے نعروں سے تاریخ نہیں بدلی جا سکتی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی(آئی این پی )سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حقائق کے منافی نفرت پر مبنی بیانات اور سوشل میڈیا کے سستے نعروں سے تاریخ نہیں بدلی جاسکتی۔ اپنے ایک بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کے مسائل سے پیپلز پارٹی نہ کبھی غافل رہی ہے اور نہ آج ہے۔ پانی، سیوریج، سڑکیں اور انفرااسٹرکچر وہ مسائل ہیں جنہیں سابقہ نام نہاد شہری حکومتوں کی دہائیوں کی غفلت نے جنم دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جو عملی اقدامات کے ذریعے عوام کے زخموں پر مرہم رکھ رہی ہے۔ کے فور، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، بس سروسز، اور بڑے ترقیاتی منصوبے مسلسل حکومتی کاوشوں کا ثبوت ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ وسائل کی منصفانہ تقسیم پر یقین رکھا ہے، کراچی کا پیسہ کراچی پر لگایا جا رہا ہے، سندھ کے سرکاری اسپتال نہ صرف جدید سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ ان کا ماڈل دیگر صوبوں کے لیے مثال بن رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق کی مضبوطی، صوبائی خودمختاری اور عوامی فلاح کو مقدم رکھا ہے، سندھ کے باشعور عوام جانتے ہیں کہ کون ان کی خدمت کر رہا ہے اور کون محض بیانات کی سیاست کے ذریعے اپنی ناکامیاں چھپا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ