اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ طویل المدتی ٹیکس تنازعات نہ صرف مالی وسائل پر دباؤ ڈالتے ہیں بلکہ ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ہم عدلیہ کی جانب سے ایسے اقدامات کو یقینی بنائیں گے جو بروقت انصاف اور قانونی شفافیت کو فروغ دیں۔ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس جس میں ملکی معیشت پر اہم اثرات رکھنے والے ٹیکس کے بڑے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے اصلاحاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، ایف بی آر کے چیئرمین، ممبر (لیگل) اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں طویل عرصے سے زیر التوا اور بڑی مالیت والے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے  مضبوط اور مستقل فریم ورک کی تشکیل پر بات چیت کی گئی، جس میں مقدمات کے بیک لاگز کم کرنے، قانونی شفافیت بڑھانے اور عوامی آمدن کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ زیر غور اصلاحاتی حکمت عملی میں اہم اور بڑے ٹیکس مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد نمٹانا، ٹیکس حکام اور عدالتی نظام کے درمیان بہتر ہم آہنگی، قانونی تیاری اور مقدمات کے نظم و نسق کو مضبوط بنانا، فیصلوں کے تسلسل اور تیز رفتاری کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار اور ادارہ جاتی اقدامات پر غور شامل تھے۔ یہ اجلاس عدلیہ کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ تھا جس کا مقصد گورننس میں بہتری، انتظامی تاخیر میں کمی اور عدالتی عمل کو ملکی اقتصادی اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ڈھالنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔

جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔

دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ