WE News:
2026-07-24@01:52:48 GMT

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نیویارک پہنچا دیے گئے

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نیویارک پہنچا دیے گئے

 

امریکی حملوں کے بعد گرفتار کیے جانے والے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو سخت سیکیورٹی میں نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں عدالت میں پیش کیے جانے اور سنگین الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں حالیہ امریکی کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے صدر نکولس مادورو کو طیارے کے ذریعے نیویارک پہنچایا گیا۔ نیویارک آمد کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہٹن منتقل کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق نکولس مادورو کو بروکلین کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے، جہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مادورو کو جلد نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

عدالتی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے، جو امریکی عدالتی نظام میں ایک غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کی، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل