وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نیویارک پہنچا دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
امریکی حملوں کے بعد گرفتار کیے جانے والے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو سخت سیکیورٹی میں نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں عدالت میں پیش کیے جانے اور سنگین الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں حالیہ امریکی کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے صدر نکولس مادورو کو طیارے کے ذریعے نیویارک پہنچایا گیا۔ نیویارک آمد کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہٹن منتقل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق نکولس مادورو کو بروکلین کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے، جہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مادورو کو جلد نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
عدالتی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے، جو امریکی عدالتی نظام میں ایک غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کی، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔