ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کے لیے امریکی اسپیشل فورس کے آپریشن کی تفصیلات بتادیں۔

فوکس نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اُن دونوں کو ’’ یو ایس ایس آئیو جیما‘‘ جہاز پر سوار کر کے نیویارک کی طرف روانہ کردیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتاری کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز تک پہنچایا گیا اور یہ پرواز محفوظ طریقے سے مکمل ہوئی۔

امریکی صدر کے بقول انھوں نے وینزویلا کے صدر مادورو کو ایک ہفتہ قبل فون بھی کیا تھا اور گرفتاری دیکر امریکی مقدمے کا سامنا کرنے کو کہا تھا۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں نے کئی امریکیوں کو ہلاک کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری کو لازمی سمجھا گیا۔

صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مادورو کی گرفتاری کو مارا لاگو میں ایک کمرے سے براہ راست دیکھا جیسے ٹیلی وژن پر  کوئی  لائیو شو دیکھا جاتا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ گرفتاری کا عمل بہت پیچیدہ تھا جس میں امریکی فوجی نے اسٹیل کے دروازے توڑے اور محفوظ شدہ مقامات تک پہنچ کر مادورو کو گرفتار کیا۔

مزید پڑھیں

امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

گرفتاری سے چند روز قبل وینزویلا کے صدر امریکا کیساتھ مذاکرات کیلیے تیار ہوگئے تھے

وینزویلا کے گرفتار صدر کو کہاں لے جایا گیا اور کیا سلوک ہوگا؟ امریکی وزرا نے بتادیا

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج کے پاس کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹر، فائٹر جیٹس اور دیگر متعدد طیارے موجود تھے اور ہر لمحے کی نگرانی کی گئی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس پورے ملٹری آپریشن کو انتہائی مہارت اور تیز رفتاری سے انجام دیا گیا ایسی کارروائی کرنا دنیا میں کسی اور ملک کے لیے کرنا ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس پوری کارروائی کے دوران کسی امریکی کا جانی نقصان نہیں ہوا البتہ کچھ اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ تمام فوجی مکمل ساز و سامان کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا البتہ ایک فوجی ہیلی کاپٹرز کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور اُسے بھی بحفاظت واپس لے آیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی فوج کی خصوصی ٹیم نے وینزویلا کے صدر کے کمرے میں داخل ہوکر انھیں اہلیہ سمیت گرفتار کیا اور گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر مادورو اور

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل