امریکا کا وینزویلا پر حملہ اور صدر مادورو کی گرفتاری، دنیا کیا ردعمل دے رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کرکیا گیا۔
وینزویلا کی حکومت نے کہا کہ وینزویلا، امریکا کی موجودہ حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو عالمی برادری کے سامنے مسترد کرتا ہے، اس کی مذمت کرتا ہے اور اس کی سختی سے نشاندہی کرتا ہے۔
دیگر ممالک بھی اس حملے پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
روس
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو امریکا کی جانب سے وینزویلا کے خلاف کیے گئے مسلح جارحیت کے اقدام پر گہری تشویش رکھتا ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں یہ اہم ہے کہ مزید کشیدگی کو روکا جائے اور مکالمے کے ذریعے صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔
وزارت نے کہا کہ وینزویلا کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ کسی بھی بیرونی، تباہ کن فوجی مداخلت کے بغیر اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور اس کی قیادت کی جانب سے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کی پالیسی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔
کولمبیا
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد بیانات میں لکھا کہ پوری دنیا کو خبردار کر رہا ہوں کہ وینزویلا پر حملہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریہ کولمبیا اس یقین کا اعادہ کرتا ہے کہ امن، بین الاقوامی قانون کا احترام، اور انسانی جان اور وقار کا تحفظ ہر قسم کے مسلح تصادم پر غالب ہونا چاہیے۔
ایک علیحدہ پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ کولمبیا ’وینزویلا اور لاطینی امریکا کی خودمختاری کے خلاف جارحیت کو مسترد کرتا ہے‘۔ بعد ازاں پیٹرو نے وینزویلا کی سرحد پر فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔
کیوبا
صدر میگل دیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے واشنگٹن پر وینزویلا کے خلاف ’مجرمانہ حملہ‘ کرنے کا الزام لگایا اور فوری عالمی ردعمل کا مطالبہ کیا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں دیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا کا امن کا خطہ بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور امریکی کارروائی کو ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا جو نہ صرف وینزویلا کے عوام بلکہ وسیع تر طور پر ’ہماری امریکا‘ کے خلاف ہے۔
دنیا بھر میں کیوبن سفارت خانوں کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ہوانا نے کہا کہ وہ وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی حملے کی مذمت کرتا ہے۔
ایران
ایک بیان میں ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ ’وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی‘ کی سخت مذمت کرتی ہے۔
امریکا
ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا نے وہاں اپنی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔
انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون کال کے بعد ایکس پر لکھا کہ اب جب مادورو امریکی تحویل میں ہیں، تو وہ وینزویلا میں کسی مزید کارروائی کی توقع نہیں رکھتے۔
لی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں بریفنگ دی ہے کہ مادورو کو امریکا میں مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یورپی یونین
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے کہا کہ انہوں نے وینزویلا کی تازہ صورتحال پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کاراکاس میں یورپی یونین کے سفیر سے بات کی ہے۔
انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ یورپی یونین وینزویلا کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین بارہا کہہ چکی ہے کہ مسٹر مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں اور اس نے پُرامن انتقالِ اقتدار کی حمایت کی ہے۔ ہر صورت میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہم تحمل کی اپیل کرتے ہیں۔ ملک میں موجود یورپی شہریوں کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔
اسپین
میڈرڈ نے وینزویلا میں کشیدگی کم کرنے، اعتدال اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کیا۔ ہسپانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسپین وینزویلا میں پُرامن حل تلاش کرنے میں ثالثی کی پیشکش بھی کرتا ہے۔
اٹلی
وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وہ وینزویلا کی صورتحال پر ’قریبی نظر‘ رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر ’وہاں موجود اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے‘ کے لیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس وقت تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار اطالوی شہری وینزویلا میں مقیم ہیں، جن میں سے اکثر کے پاس دوہری شہریت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا صدر ٹرمپ وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا وینزویلا وینزویلا میں یورپی یونین وینزویلا کے نے وینزویلا نے کہا کہ وہ وینزویلا کی کی جانب سے انہوں نے کے خلاف کرتا ہے ایکس پر اور اس
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے