امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کرکیا گیا۔

وینزویلا کی حکومت نے کہا کہ وینزویلا، امریکا کی موجودہ حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو عالمی برادری کے سامنے مسترد کرتا ہے، اس کی مذمت کرتا ہے اور اس کی سختی سے نشاندہی کرتا ہے۔

دیگر ممالک بھی اس حملے پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

روس

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو امریکا کی جانب سے وینزویلا کے خلاف کیے گئے مسلح جارحیت کے اقدام پر گہری تشویش رکھتا ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں یہ اہم ہے کہ مزید کشیدگی کو روکا جائے اور مکالمے کے ذریعے صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔

وزارت نے کہا کہ وینزویلا کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ کسی بھی بیرونی، تباہ کن فوجی مداخلت کے بغیر اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور اس کی قیادت کی جانب سے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کی پالیسی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

کولمبیا

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد بیانات میں لکھا کہ پوری دنیا کو خبردار کر رہا ہوں کہ وینزویلا پر حملہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریہ کولمبیا اس یقین کا اعادہ کرتا ہے کہ امن، بین الاقوامی قانون کا احترام، اور انسانی جان اور وقار کا تحفظ ہر قسم کے مسلح تصادم پر غالب ہونا چاہیے۔

ایک علیحدہ پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ کولمبیا ’وینزویلا اور لاطینی امریکا کی خودمختاری کے خلاف جارحیت کو مسترد کرتا ہے‘۔ بعد ازاں پیٹرو نے وینزویلا کی سرحد پر فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔

کیوبا

صدر میگل دیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے واشنگٹن پر وینزویلا کے خلاف ’مجرمانہ حملہ‘ کرنے کا الزام لگایا اور فوری عالمی ردعمل کا مطالبہ کیا۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں دیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا کا امن کا خطہ بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور امریکی کارروائی کو ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا جو نہ صرف وینزویلا کے عوام بلکہ وسیع تر طور پر ’ہماری امریکا‘ کے خلاف ہے۔

دنیا بھر میں کیوبن سفارت خانوں کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ہوانا نے کہا کہ وہ وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی حملے کی مذمت کرتا ہے۔

ایران

ایک بیان میں ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ ’وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی‘ کی سخت مذمت کرتی ہے۔

امریکا

ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا نے وہاں اپنی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون کال کے بعد ایکس پر لکھا کہ اب جب مادورو امریکی تحویل میں ہیں، تو وہ وینزویلا میں کسی مزید کارروائی کی توقع نہیں رکھتے۔

لی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں بریفنگ دی ہے کہ مادورو کو امریکا میں مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یورپی یونین

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے کہا کہ انہوں نے وینزویلا کی تازہ صورتحال پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کاراکاس میں یورپی یونین کے سفیر سے بات کی ہے۔

انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ یورپی یونین وینزویلا کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین بارہا کہہ چکی ہے کہ مسٹر مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں اور اس نے پُرامن انتقالِ اقتدار کی حمایت کی ہے۔ ہر صورت میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہم تحمل کی اپیل کرتے ہیں۔ ملک میں موجود یورپی شہریوں کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔

اسپین

میڈرڈ نے وینزویلا میں کشیدگی کم کرنے، اعتدال اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کیا۔ ہسپانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسپین وینزویلا میں پُرامن حل تلاش کرنے میں ثالثی کی پیشکش بھی کرتا ہے۔

اٹلی

وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وہ وینزویلا کی صورتحال پر ’قریبی نظر‘ رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر ’وہاں موجود اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے‘ کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس وقت تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار اطالوی شہری وینزویلا میں مقیم ہیں، جن میں سے اکثر کے پاس دوہری شہریت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا صدر ٹرمپ وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا وینزویلا وینزویلا میں یورپی یونین وینزویلا کے نے وینزویلا نے کہا کہ وہ وینزویلا کی کی جانب سے انہوں نے کے خلاف کرتا ہے ایکس پر اور اس

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل