نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی کارروائی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ طاقت کے استعمال اور رجیم چینج کی پالیسی کے حامی نہیں ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وینزویلا پر حملے کی کھل کر مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خود مختار ملک پر فوجی کارروائی نہ صرف وفاقی بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔

ظہران ممدانی نے گفتگو میں اس امر پر زور دیا کہ وہ رجیم چینج کی سوچ کو مسترد کرتے ہیں اور ایسے اقدامات کو دنیا میں عدم استحکام کا باعث سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق طاقت کے بجائے سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔

یہ بیان صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ظہران ممدانی کا پہلا کھلا اور واضح اختلاف تصور کیا جا رہا ہے۔ ممدانی ماضی میں بھی صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور انہیں فاشسٹ قرار دے چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق میئر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ موقف ایک بڑے اور جرات مندانہ سیاسی اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم ظہران ممدانی کی اس تنقید پر اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟