ظہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی حملے کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
نیویارک:
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے وینزویلا پر مبینہ امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو و ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے اعلان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ انہیں امریکی آپریشن اور صدر مادورو و ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو نیویارک سٹی میں وفاقی تحویل میں رکھنے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی ہے۔
I was briefed this morning on the U.
Unilaterally attacking a sovereign nation is an act of war and a violation of federal and… — Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 3, 2026
ان کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور یہ وفاقی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیںامریکا کے وینزویلا پر فضائی حملے، زمینی فوج بھی اتارنے کی تیاری
امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے
انہوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں امریکی خارجہ پالیسی میں خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
ظہران ممدانی نے زور دیا کہ اس کارروائی کے اثرات صرف وینزویلا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے براہِ راست نتائج نیویارک میں مقیم دسیوں ہزار وینزویلا باشندوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
میئر نے کہا کہ میری توجہ ان کی اور ہر نیویارک کے شہری کی سلامتی پر مرکوز ہے اور ساتھ ہی واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر شہریوں کو بروقت رہنمائی فراہم کی جاتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔