روس، ایران، کولمبیا اور کیوبا نے وینزویلا پر امریکی حملے کی شدید مذمت کی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
روس، ایران، کولمبیا اور کیوبا نے وینزویلا پر امریکی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ وینزویلا کی قیادت کے ملکی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کے موقف کی حمایت جاری رکھی جائے گی اور امریکی حملوں پر سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ روس نے زور دیا کہ لاطینی امریکہ کو امن کا علاقہ برقرار رکھنا چاہیے اور موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کے ذریعے حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔
ایران نے بھی امریکی حملے کو وینزویلا کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کرنے اور ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی جنگی طیاروں اور ڈیلٹا فورس کی مدد سے دارالحکومت کاراکاس میں فوجی اور اہم اہداف پر کی گئی، جس میں فوجی ہیڈ کوارٹرز بھی نشانہ بنائے گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو وینزویلا سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔
وینزویلا نے امریکی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ کھلی جارحیت کا مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
ادھر امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف امریکا میں مقدمات کی تفصیلات جاری کیں۔ ان پر منشیات کے کاروبار اور دہشت گردی سمیت امریکا کے خلاف ہتھیار حاصل کرنے کی سازش کے الزامات ہیں، اور نیویارک کے جنوبی ضلع میں ان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ 7 اگست 2025 کو مادورو کی گرفتاری پر امریکا نے 50 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔