وینزویلا کیخلاف جارحیت امریکی سرمایہ دارانہ پالیسی کا حصہ ہے، فلسطینی مقاومتی گروہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اقوام متحدہ کے نام اپنے ایک خط میں وزیر خارجہ ایون گِل پنٹو کا کہنا تھا کہ امریکی دراندازی پر سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے اس اقدام کو اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے وینزویلا پر حملہ کے بعد، فلسطین کی مقاومتی تحریکوں نے سخت مذمتی موقف اپنایا۔ اس بارے میں "جهاد اسلامی" نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکی جارحانہ اقدامات، اُن سرمایہ دارانہ پالیسیوں کا تسلسل ہیں جس کے ذریعے وہ قوموں کو تسلیم کرنے اور ان کے وسائل لوٹنے کے درپے ہے۔ جہاد اسلامی نے کہا کہ فلسطین کاز کی حمایت کرنے پر بھی وینزویلا کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ فلسطین پیپلز فرنٹ نے امریکی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف، صدر نکولس میڈورو کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا نے ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کی، اس لئے اُسے استعماری اور نوآبادیاتی نظام کی مخالفت میں اپنے اصولی موقف کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
مزید برآں، حماس نے زور دے کر کہا کہ ہم وینزویلا کے خلاف امریکی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ صدر نکولس میڈورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری نہایت مذموم فعل و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے وینزویلا کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے کئے۔ اس دوران امریکی فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا۔ جس کے جواب میں وینزویلا کے وزیر خارجہ "ایون گِل پنٹو" نے اقوام متحدہ کو ایک باضابطہ خط بھیج کر مطالبہ كیا كہ اس امریکی دراندازی پر سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے اس اقدام کو اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینزویلا کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔