شہرِ قائد کی ابتر حالت؛ ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کی ابتر حالات کے پیش نظر ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہمُ کا اعلان کردیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے بہادرآباد مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، سید امین الحق اور دیگر رہنما شریک تھے۔ پریس کانفرنس میں شہر کے بنیادی مسائل، معیشت میں کردار اور مستقبل کی حکمت عملی پر مؤقف پیش کیا گیا۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کو ایک بار پھر وہ حیثیت دینا ہوگی جس کا یہ شہر حقدار ہے۔ کراچی سے 65 فیصد قومی اور 95 فیصد صوبائی ریونیو جاتا ہے جب کہ ملک کی 50 فیصد سے زائد ایکسپورٹ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے، اس کے باوجود شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آج رسمی طور پر’کراچی بچاؤ مہم‘ کا آغاز کررہے ہیں۔ کراچی کا انفرااسٹرکچر انتہائی بری صورتحال میں ہے جب کہ نکاسی آب، صاف پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی خستہ حالی شہر کے بنیادی مسائل بن چکے ہیں جن پر فوری توجہ ضروری ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ سال 2025 میں ایک تاریخی معرکہ سر کیا گیا اور 6 مئی سے 10 مئی 2025 کا عرصہ ملکی تاریخ اور فتوحات کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس دوران ملک کے عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ نئے سال 2026 میں اگلا معرکہ’معرکہ معیشت‘ ہوگا جس کا ہدف پاکستان کو معاشی طور پر آزاد اور خودمختار بنانا ہے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری دنیا کے ساتھ قدم بقدم ساتھ کھڑا ہے۔ ملک کی بقا و سلامتی کراچی کی بقا و سلامتی سے وابستہ ہے اور کراچی کی تعمیر و ترقی سے ہی ملک کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل فاروق ستار
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔