کراچی میں لڑکی کی بے وفائی پر 45 سالہ شخص نے خودسوزی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
شہر قائد کے علاقے سعید آباد میں ایک شخص نے لڑکی کی بے وفائی کو خود کو آگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سعیدآباد کے علاقے بلدیہ مرشد اسپتال کے واش روم میں ایک شخص نے پراسرار طور پر خود کو آگ لگا کر خودسوزی کی کوشش جسے انتہائی تشویشناک حالت میں چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق جھلس کر زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ عبدالرحمان ولد غلام رسول کے نام سے کی گئی جس کا 85 فیصد جسم جھلس چکا تھا۔
زخمی شخص نے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ وہ مواچھ گوٹھ کا رہائشی ہے اور اُس کی نیازی کالونی کی رہائشی ایک لڑکی سے دوستی تھی، لڑکی نے 50 ہزار روپے مانگے تھے جو میں نے اسے دے دیے تھے ، مجھ سے رقم لینے کے بعد لڑکی مجھے کسی اور کے ساتھ دکھائی دی ، جس پر میں نے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کا فیصلہ کیا تھا۔
بعد ازاں عبدالرحمان دوران علاج دم توڑ گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔