کراچی میں لڑکی کی بے وفائی پر 45 سالہ شخص نے خودسوزی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
شہر قائد کے علاقے سعید آباد میں ایک شخص نے لڑکی کی بے وفائی کو خود کو آگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سعیدآباد کے علاقے بلدیہ مرشد اسپتال کے واش روم میں ایک شخص نے پراسرار طور پر خود کو آگ لگا کر خودسوزی کی کوشش جسے انتہائی تشویشناک حالت میں چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق جھلس کر زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ عبدالرحمان ولد غلام رسول کے نام سے کی گئی جس کا 85 فیصد جسم جھلس چکا تھا۔
زخمی شخص نے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ وہ مواچھ گوٹھ کا رہائشی ہے اور اُس کی نیازی کالونی کی رہائشی ایک لڑکی سے دوستی تھی، لڑکی نے 50 ہزار روپے مانگے تھے جو میں نے اسے دے دیے تھے ، مجھ سے رقم لینے کے بعد لڑکی مجھے کسی اور کے ساتھ دکھائی دی ، جس پر میں نے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کا فیصلہ کیا تھا۔
بعد ازاں عبدالرحمان دوران علاج دم توڑ گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔