خیبر پختونخوا، کوہستان مالی اسکینڈل سے متعلق ایک اور رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کوہستان مالی اسکیندل سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض چیکس پر جعلی دستخط اور جعلی مہریں لگانے کا انکشاف بھی ہوا ہے، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر اور اکاؤنٹ جنرل آفس نے درکار اسٹیٹمنٹس فراہم نہیں کیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں اپر کوہستان مالی اسیکنڈل سے متعلق دوسری ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹرائزد نظام کا صحیح استعمال نہ کرنے سے فراڈ کے موقع پیدا ہوئے اور بعض چیکس پر جعلی دستخط اور جعلی مہریں لگانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے رپورٹ جمع کرا دی، جس میں کہا گیا کہ ادائیگیوں سے متعلق 2008 میں کمپوٹرائزڈ نظام ایس اے پی متعارف کیا گیا اور کمپوٹرائزڈ نظام کا صحیح استعمال نہ کرنے سے فراڈ کے مواقع پیدا ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادائیگیوں کے لیے غیرمجاز چیک بکس استعمال کی گئیں، جاری کیےگئے چیکس کا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
کوہستان مالی اسکیندل سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض چیکس پر جعلی دستخط اور جعلی مہریں لگانے کا انکشاف بھی ہوا ہے، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر اور اکاؤنٹ جنرل آفس نے درکار اسٹیٹمنٹس فراہم نہیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق محکمانہ چھان بین کے بغیر معلوم ٹھیکداروں کو ادائیگیاں کی گئیں، ایکسین کوہستان نے کمیٹی کو 5 برس کی انٹرنل آڈٹ رپورٹ فراہم نہیں کی، نیشنل بینک داسو برانچ لین دین میں بے ضابطگیوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہا۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2019 سے 2024 تک محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے ایک ارب 48 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری کیے، 5 برسوں میں جاری رقم میں سے صرف 89 کروڑ 12 لاکھ روپےکی تصدیق شدہ ڈیبٹ سامنےآئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے جی آفس اسٹیٹمنٹس میں موجود مگر ڈویژنل ریکارڈ سے غائب ہے، چیکس کی نشان دہی کرے اور اسٹیٹمنٹس کو فرانزک تصدیق کے لیے لاہور لیب بھیجا جائے اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر سے تمام جاری چیک بکس اور ذمہ دار اہلکاروں کی فہرست طلب کی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ نیشنل بینک سے 5 سال میں سب ہیڈ جی 10113 کے تحت تمام ادائیگیوں کی تفصیلات مانگی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی اسکینڈل میں تاحال محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے براہ راست ملوث ہونےکے شواہد نہیں ملے، محکمے میں ادارہ جاتی کنٹرول، آڈٹ طریقہ کار اور انتظامی نگرانی میں کوتاہیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انکوائری کے نتائج کا انحصار درکار دستاویزات اور فرانزک شواہد کی بروقت وصولی اور جانچ پڑتال پر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ میں بتایا گیا کوہستان مالی
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت